CONTENT KNOWLEDGE
This blog is about knowledge of Information Technology and other social information.
Thursday, September 29, 2016
Tuesday, September 27, 2016
میموری کے مسائل کا خاتمہ ۔۔ ٹیکنالوجی ماہرین نے زبردست میموری کارڈ متعارف کرا دیا ۔۔
میموری مسائل سے دوچار ٹیکنالوجی صارفین پریشان ہونا چھوڑ دیں کیونکہ اب ان کا یہ مسئلہ بس ختم ہونے ہی والا ہے،جی ہاں ، ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچان رکھنے والی کمپنی’’سکین ڈسک‘‘ نے دنیا کا سب سے بڑا ایس ڈی کارڈ متعارف کرادیا ہے جس میں سو ،دو یا پانچ سو جی بی نہیں بلکہ ایک ٹی بی ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا یعنی پورا ایک ٹیرا بائٹ۔اس وقت یہ کارڈ آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور ابھی تک اس کی قیمت یا فروخت کی تاریخ کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی تاہم پھر بھی اسے ایک متاثر کن سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔اس کارڈ کو سان ڈسک کا نام دیا گیا ہے جسے ویسٹرن ڈیجیٹل نے تیار کیا ہے اور یہ وہ کمپنی ہے جس نے 16 سال قبل اپنا پہلا 64 ایم بی ایس ڈی کارڈ فروخت کے لیے پیش کیا تھا جبکہ دو سال قبل 512 جی بی کا کارڈ متعارف کرایا۔64 ایم بی سے موازنہ کیا جائے تو 1 ٹی بی ورڑن میں 16 ہزار گنا زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کارڈ میموری کے بڑھے تقاضے پورے کرے گا کیونکہ 4 کے اور 8 کے ویڈیوز، 360 ڈگری ویڈیو اور وی آر وغیرہ کے لیے بہت زیادہ میموری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ تھوڑا مہنگا ضرور ہوگا۔
انسانی سوچ سے بھی زیادہ تیز ترین وائی فائی ۔
سائنسدانوں کی انتھک محنت رنگ لانے لگیں حال ہی میں ایک ایسی ٹیکنالوجی نئے وائی فائی سسٹم پر کام کر رہے ہیں جو میگا میمو 2.0 کہلوانے والا یہ سسٹم موجودہ وائی فائی کی نسبت تین گنا زائد رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج بھی دوگنی ہے۔ ڈیٹا ترسیل کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کرتا ہے ۔امریکا میں ہونے والی اس تحقیق پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ کمپیوٹر سائنس انٹیلی جینس لیب کی مدد سے تیار کیا جارہاہے ۔ یہ ٹیکنالوجی بہت جلدلوگ اپنے گھروں میں استعمال کریں گے ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
آپ کی بجلی کی تاروں میں اب کرنٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی آپ تک پہنچے گی ۔
اے ٹی اینڈ ٹی لیبز نے ایک اچھوتے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دور دراز علاقوں میں تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ تیز رفتار انٹرنیٹ بھی پہنچایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابقپروجیکٹ ایئرگگ نامی اس منصوبے کی بدولت انٹرنیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں پر وقفے وقفے سے خصوصی مواصلاتی آلات لگائے جائیں گے جو اِن تاروں میں دوڑنے والی بجلی کے ساتھ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے سگنل بھی شامل کردیں گے۔ یعنی اضافی تاریں بچھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان دور دراز علاقوں، دیہاتوں، قصبوں اور آبادیوں کے لیے ہے جہاں بجلی تو موجود ہے لیکن وہاں تک مروجہ طریقوں کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانا یا تو بے حد مشکل ہے یا پھر بہت مہنگا سودا ہے۔
فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔
تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔
فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔
تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔
Thursday, September 22, 2016
میاں بیوی کی سالانہ لڑائی کی مکمل رپورٹ تیار کر لی گئی، تفصیلات انتہائی دلچسپ
لندن(نیوزڈیسک)گھریلو ناچاقی اور میاں بیوی کے درمیان الجھنیں ہر معاشرے اور ہر دور کا حصہ رہی ہیں اور اس سے نجات کے لیے ماہرین مختلف طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیوی ایک سال میں اپنے شوہر سے 8 ہزار منٹ تک الجھتی رہتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے 3000 افراد پر یہ تحقیق کی اور پتا چلایا کہ شوہر کی نسبت بیوی زیادہ چڑچڑے پن کا شکار رہتی اور اپنے خاوند اور دیگر افراد خانہ سے ا ±لجھتی رہتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے میں کم سے کم 2 گھنٹے 25 منٹ اور ماہانہ 11 گھنٹے بیوی اپنے شوہر سے لڑتی جھگڑتی ہے۔ چونکہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہر معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے ماہرین نفسیات بیوی کے چڑچڑے پن سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوی سے اس کی فطرت کے مطابق ہی سلوک کیا جائے۔ کسی بھی شخص کو سو فی صد تبدیل کرنا غیر منطقی ہے۔ تبدیلی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ الجھنوں کا شکار شخص خود جب تک تبدیلی کا عزم نہ کرے تو اس کی طبیعت اور مزاج میں فرق نہیں پڑے گا۔یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ آپ کے شریک حیات کے مزاج میں پائی جانے والی تلخی کے پس پردہ اس کی تعلیم، مخصوص ماحول میں پرورش اور اس کے موروثی مسائل میں سے کوئی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ اگر خاتون اپنے شوہر پر مخصوص اور متعین ذمہ داریاں ڈالتی ہے تو اس کے اس فطرت کو بتدریج بدلا جا سکتا ہے۔شریک حیات میں سے دونوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تبدیلی پلک جھپکتے نہیں آجاتی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بتدریج اور تکرار کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔ آپ اپنے شریک حیات میں ایسی ناپسندیدہ عادات دیکھتے ہیں جنہیں آپ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسے قائل کرنے کے لیے مسلسل انداز میں مثبت کوششیں جاری رکھیں۔
گوگل نے نئی شاندار ایپ متعارف کرا دی
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور ایپل کے آئی میسج کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور گوگل کو توقع ہے کہ اس کی ایپ ان تینوں کے مقابلے میں کامیاب ثابت ہوگی۔اس سے قبل گوگل نے اپنی ایپ ہینگ آؤٹ متعارف کروائی تھی، جو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن اس بار گوگل کچھ مختلف سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔درحقیقت ایلو کو گوگل نے اپنی سب سے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کیا ہے اور وہ ہے مشین لرننگ ٹیکنالوجی جسے گوگل اسسٹنٹ کا نام دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک ایسا چیٹ بوٹ ہے جو صارف اور اس کے دوستوں کو چیٹ ہسٹری فراہم کرے گا جبکہ متعدد گوگل پراڈکٹس کو بھی چیٹ کے دوران سامنے لائے گا۔اس ایپ میں صارف اپنے میسج کا سائز بدل سکے گا، خودکار ریپلائی، گوگل اسسٹنٹ سے چیٹ کرکے مختلف چیزوں یا ارگرد کے علاقے کے بارے میں معلومات کا حصول، اسٹیکرز، تصاویر ڈرا کرنا (فی الحال یہ صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے) اور سیکرٹ موڈ وغیرہ اس کے خاص فیچرز ہیں۔اس سیکرٹ موڈ میں صارف اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجز بھیج سکے گا جو کہ کچھ سیکنڈز بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائیں گے۔
Saturday, September 17, 2016
میں نے3راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں، ایک ماہی گیر کا انوکھا واقع
سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپر کئی روز بعد دوبارہ ظاہر ہوگیاہے۔ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپین کی کوسٹ گارڈ کے کئی روز تک سمندر میں تلاش کرنے کے بعد جب 56سالہ ماہی گیر کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تو یہ یقین ہوگیا کہ وہ سمندری مخلوق کی خوراک بن چکاہے۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپ...
-
مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں می...
-
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ مواد فیس بک پر شیئر کرنے والے ملزم کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کا حکم سنادیا۔جرمان...

