میموری مسائل سے دوچار ٹیکنالوجی صارفین پریشان ہونا چھوڑ دیں کیونکہ اب ان کا یہ مسئلہ بس ختم ہونے ہی والا ہے،جی ہاں ، ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچان رکھنے والی کمپنی’’سکین ڈسک‘‘ نے دنیا کا سب سے بڑا ایس ڈی کارڈ متعارف کرادیا ہے جس میں سو ،دو یا پانچ سو جی بی نہیں بلکہ ایک ٹی بی ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا یعنی پورا ایک ٹیرا بائٹ۔اس وقت یہ کارڈ آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور ابھی تک اس کی قیمت یا فروخت کی تاریخ کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی تاہم پھر بھی اسے ایک متاثر کن سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔اس کارڈ کو سان ڈسک کا نام دیا گیا ہے جسے ویسٹرن ڈیجیٹل نے تیار کیا ہے اور یہ وہ کمپنی ہے جس نے 16 سال قبل اپنا پہلا 64 ایم بی ایس ڈی کارڈ فروخت کے لیے پیش کیا تھا جبکہ دو سال قبل 512 جی بی کا کارڈ متعارف کرایا۔64 ایم بی سے موازنہ کیا جائے تو 1 ٹی بی ورڑن میں 16 ہزار گنا زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کارڈ میموری کے بڑھے تقاضے پورے کرے گا کیونکہ 4 کے اور 8 کے ویڈیوز، 360 ڈگری ویڈیو اور وی آر وغیرہ کے لیے بہت زیادہ میموری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ تھوڑا مہنگا ضرور ہوگا۔
This blog is about knowledge of Information Technology and other social information.
Showing posts with label Information Technology. Show all posts
Showing posts with label Information Technology. Show all posts
Tuesday, September 27, 2016
انسانی سوچ سے بھی زیادہ تیز ترین وائی فائی ۔
سائنسدانوں کی انتھک محنت رنگ لانے لگیں حال ہی میں ایک ایسی ٹیکنالوجی نئے وائی فائی سسٹم پر کام کر رہے ہیں جو میگا میمو 2.0 کہلوانے والا یہ سسٹم موجودہ وائی فائی کی نسبت تین گنا زائد رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج بھی دوگنی ہے۔ ڈیٹا ترسیل کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کرتا ہے ۔امریکا میں ہونے والی اس تحقیق پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ کمپیوٹر سائنس انٹیلی جینس لیب کی مدد سے تیار کیا جارہاہے ۔ یہ ٹیکنالوجی بہت جلدلوگ اپنے گھروں میں استعمال کریں گے ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
Thursday, September 22, 2016
گوگل نے نئی شاندار ایپ متعارف کرا دی
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور ایپل کے آئی میسج کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور گوگل کو توقع ہے کہ اس کی ایپ ان تینوں کے مقابلے میں کامیاب ثابت ہوگی۔اس سے قبل گوگل نے اپنی ایپ ہینگ آؤٹ متعارف کروائی تھی، جو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن اس بار گوگل کچھ مختلف سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔درحقیقت ایلو کو گوگل نے اپنی سب سے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کیا ہے اور وہ ہے مشین لرننگ ٹیکنالوجی جسے گوگل اسسٹنٹ کا نام دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک ایسا چیٹ بوٹ ہے جو صارف اور اس کے دوستوں کو چیٹ ہسٹری فراہم کرے گا جبکہ متعدد گوگل پراڈکٹس کو بھی چیٹ کے دوران سامنے لائے گا۔اس ایپ میں صارف اپنے میسج کا سائز بدل سکے گا، خودکار ریپلائی، گوگل اسسٹنٹ سے چیٹ کرکے مختلف چیزوں یا ارگرد کے علاقے کے بارے میں معلومات کا حصول، اسٹیکرز، تصاویر ڈرا کرنا (فی الحال یہ صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے) اور سیکرٹ موڈ وغیرہ اس کے خاص فیچرز ہیں۔اس سیکرٹ موڈ میں صارف اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجز بھیج سکے گا جو کہ کچھ سیکنڈز بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائیں گے۔
Thursday, September 15, 2016
فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹرکی مشترکہ کاروائی، بڑا اعلان
لندن ( این این آئی) فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے یورپین کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا جسے درخواست ملنے پر اس کے 24گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ کی دنیا کی 4بڑی کمپنیوں فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے نفرت انگیز مواد کے خلاف کریک ڈان کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ہر طرح کے نازیبا مواد کو رپورٹ کرنے پر 24گھنٹوں کے اندر جائزہ لے کر سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کی سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔نوجوان نسل کو خراب کرنے کے لیے دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے کی تضحیک کرنے اور ذاتی لڑائیوں کا بدلہ لینے کے لیے بھی ایک دوسرے کے خلاف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلے بھی کسی نازیبا مواد کو رپورٹ کیا جاسکتا تھا لیکن اب سماجی رابطوں کی ان بڑی کمپنیز نے وعدہ کیا ہے کہ اس طرح کے مواد کو ان کے دنیا بھر میں موجود نمائندے بروقت جائزہ لینے کے بعد 24گھنٹوں کے اندر اندر حذف کر دیں گے۔فیس بک اور ٹوئٹر جو کہ اس وقت سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہیں وہ اس حوالے سے کچھ مزید اقدامات میں بھی مصروف ہیں۔ ان اقدامات کے تحت آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کو بھی نفرت انگیز اور نازیبا مواد کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ نظام ان ویب سائٹس پر موجود قابل اعتراض تصاویر کی خود بخود نشاندہی کرکے انہیں حذف کر سکتا ہے۔ مثلا فحش اور اسلحہ تھام کر بنائی گئی تصویروں کو یہ نظام جلد اور زیادہ تعداد میں ڈھونڈ سکے گا۔ یعنی انسانوں کی نشاندہی کے مقابلے میں یہ نظام خود ہی زیادہ تر قابل اعتراض مواد کو پکڑ لے گا۔سوشل میڈیا کو پرامن اور دوستانہ رابطوں کے ذرائع برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کی ان چاروں بڑی کمپنیوں کا یہ اتحاد وقت اور حالات کی اشد ضرورت تھا۔
آج کے بعد فیس بک پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ مواد فیس بک پر شیئر کرنے والے ملزم کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کا حکم سنادیا۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کومزید ایک سال قید کی سز ا بھگتنا ہو گی۔ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کرنے کے جرم میں نوید احمد کو زیر دفعہ گیارہ ڈبلیو اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9کے تحت مجموعی طور پر دو دو سال قید اور 50،50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔فاضل جج نے ممنوعہ لٹریچر کی تشہیر اور برآمدگی پر سلانوالی کے ملزمان محمد ذوالفقار اور حنیف الرحمن کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔استغاثہ کے مطابق فیصل آباد کے رہائشی ملزم نوید احمد پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کیا تھا جس پر مئی کے مہینے میں تھانہ سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم نوید احمد کو حراست میں لیا تھا ۔
Sunday, September 11, 2016
زیادہ تر کاروبار ناکام کیوں ہوتے ہیں؟گوگل کے سربراہ نے ”راز“سے پردہ اٹھادی
گوگل سے قبل کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کررہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنیاں یا تو ختم ہوگئیں یا پھر ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ میدان عمل سے تقریباًباہر نکل گئیں ۔لیکن گوگل نے بعد میں آنے کے بعد بھی دنیا میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔آخر اس بات کی کیا وجہ ہے کہ گوگل سب سے آگے ہے اور باقی کاروبار تباہ ہورہے ہیں یا وہ بہت پیچھے ہیں۔گوگل کے سربراہ ایرک شمیڈیٹ نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ کاروبار اس لئے تباہ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک کام تو بہت اچھے طریقے سے سرانجام دیتے ہیں لیکن دوسرے کام کے لئے سوچتے بھی نہیں اور اس پر ان کی توجہ بالکل بھی نہیں ہوتی۔اس کا کہنا تھا کہ ایسی کمپنیاں اپنا ویژن وسیع نہیں کرتیں اور آنے والے وقت کی ضرورتوں کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھ پاتیں ۔اس کا کہنا تھا کہ گوگل ان تمام باتوں پر توجہ دیتا ہے جو وقت کی ضرورت ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی ایک ارتقائی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انقلابی عمل ہے۔ایرک کا کہنا تھا کہ گوگل کی حکمت عملی نہ صرف موجودہ دور کی امنگوں کی تکمیل ہے بلکہ ہم آنے والے کل پر بھی گہری نظر رکھنا ہے
ساڑھے 6 کروڑ سے زائد لوگوں ڈیٹا چوری ہو گیا کہیں آپ بھی ان میں شامل تو نہیں؟
آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس کے 6کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس انتظامیہ نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے 6 کروڑ 80 لاکھ صارفین کے ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈ چوری کرلیے گئے ہیں جنہیں ہیکرز نے انٹرنیٹ پر کھلے عام رکھ دیا ہے اور کوئی بھی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ڈراپ باکس کے مطابق یہ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز غالباً 2012ء میں چرائے گئے تھے لیکن انہیں 2 ہفتے پہلے ہی انٹرنیٹ پر عام کیا گیا ہے۔ کمپنی کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ان چوری شدہ پاس ورڈز اور ای میل ایڈریسز کے ذریعے کوئی غیرقانونی طور پر اس کے نیٹ ورک میں داخل ہوا بھی ہے یا نہیں۔ہیکنگ کی اس واردات کے بعد ڈراپ باکس نے معذرت کرتے ہوئے اپنے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈز جلد از جلد تبدیل کرلیں تاکہ کسی کو ان کے ڈراپ باکس اکاونٹ میں داخل ہونے اور ان کے حساس ڈیٹا تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔آن لائن ڈیٹا سٹوریج جسے ’’کلاویڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، صارفین کو انٹرنیٹ پر اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سہولیات وغیرہ پر مشتمل ہے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔
Tuesday, September 6, 2016
دنیا کا پہلا سرچ انجن متعارف ۔۔۔۔ آپ اس پر انتہائی آسانی کیساتھ کیا سر چ کرسکتے ہیں ؟ ’’ برطانوی اخبار دی گارجین ‘‘ کی زبردست رپورٹ
آجکل کے دور میں جب پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے تو نت نئی اور زبردست ایجادات نے دنیا کو ایک گائوں کی جگہ اب ایک محلے جیسا بنا دیاہے ۔جہاں پوری دنیا اب ہمیں ہماری مٹھی میں محسوس ہوتی ہے ۔ پہلے ادوار میں جب کسی کو کوئی جواب چاہئے ہوتا تھا تو لوگ دانا لوگوں اور حکما کے پاس جاتے مگر آج جب کسی کو کوئی بھی جواب چاہئے ہو تو ذہن ،میں جو پہلا خیال آتا ہے وہ ہے گوگل، جس پر شاید دنیا کا ہر جواب موجود ہوگا ۔ مگر فلمی دنیا میں کھوئے رہنے والوں کیلئے ایک زبردست خوشخبری ہے جس کے مطابق فن لینڈ کی ایک ٹیکنالوجی ٹیم نے ایک ویب سائٹ تیار کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ’’دنیا کا پہلا تفصیلی مووی سرچ انجن‘‘ ہے اور اس کے ذریعے ہم ایسی فلمز بھی دیکھ سکتے ہیں، جن کا نام ہمیں یاد نہیں رہتا۔ برطانوی اخبار، ’’دی گارجین‘‘ کےمطابق،فن لینڈ کی یونیورسٹی آف اولو سے وابستہ ’’والوسا‘‘ نامی گروپ کو whatismymovie.com نامی ویب سائٹ کی تیاری کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھاری مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔ اس تفصیلی مووی سرچ انجن کے ذریعے طویل ترین الفاظ اور آواز کے ذریعے موویز تلاش کی جا سکتی ہیں۔اس ویب سائٹ کی تیاری میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے کہ جس کی مدد سے آپ جگہ، اشیا اور افراد وغیرہ جیسے ہزاروں تصوارات کی مدد سے رئیل ٹائم ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔
عوام کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ۔۔ 7ستمبر کو متعارف کرائے جانے والے آئی فون کے زبردست فیچرز کیسے ہونگے ؟ تفصیلات منظر عام پر
ٹیکنالوجی کی دنیا کے سپر سٹار ایپل کا نیا موبائل فون 7ستمبر کو سان فرانسسکو میں متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ موبائل فون خصوصی فیچرز کا حامل ہوگا۔کہا جارہا ہے کہ پہلی بار ایپل کی جانب سے تین آئی فونز کو پیش کیا جاسکتا ہے تاہم ایسی رپورٹس بھی ہیں کہ اس بار بھی دو آئی فونز ہی متعارف ہوں گے، ایک 4.7 انچ اسکرین کے ساتھ جبکہ دوسرا 5.5 انچ اسکرین کا ہوگا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ نئے فون کا ڈیزائن گزشتہ سال کے آئی فون سکس اور سکس ایس جیسا ہی ہوگا۔ ایپل کی جانب سے اس بار کئی نئے رنگ بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جن میں ڈیپ بلیو اور اسپیس بلیک قابل ذکر ہیں، جبکہ پہلی بار بیسک ماڈل 16 کی بجائے 32 جی بی اسٹوریج سے شروع ہوسکتا ہے۔ ایسے بھی سننے میں آیا ہے کہ آئی فون کے بڑے ورژن یعنی پلس یا پرو میں دو لینسز والا کیمرہ ہوسکتا ہے۔ تاہم چھوٹی اسکرین والے آئی فون میں بھی پہلے سے بہتر کیمرہ پیش کیا جائے گا، جس کا لینس پہلے سے بڑا ہوگا۔
اس موبائل فون میں بڑی تبدیلی ہیڈ فون جیک کو ختم کرنا ہے اور ایپل کی جانب سے ممکنہ طور پر اس جگہ کو ایک اضافہ اسپیکر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اس ڈیوائس پر موسیقی سننا چاہیں تو تو بلیو ٹوتھ ہیڈ فونز استعمال کرنے پڑیں گے۔ ہوم بٹن بھی ری ڈیزائن ہونے کا امکان ہے تاہم اس میں تھری ڈی ٹچ کی ٹیکنالوجی موجود رہے گی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئے آئی فون میں پہلے سے طاقتور چپ موجود ہوگی یعنی اے 10۔ انٹیل کی جانب سے بھی آئی فون سیون کے لیے ایک چپ فراہم کی جائے گی جو ایک موڈیم ہوگا تاکہ اسے وائرلیس ایل ٹی ای نیٹ ورکس پر استعمال کیا جاسکے۔ اور ہاں نئے آئی فون کی بیٹری پہلے سے طاقتور ہوگی یعنی پہلے سے بہتر بیٹری لائف۔ ایسے بھی امکانات ہیں کہ نیا آئی فون واٹر ریزیزٹنٹ ہوگا۔
اس موبائل فون میں بڑی تبدیلی ہیڈ فون جیک کو ختم کرنا ہے اور ایپل کی جانب سے ممکنہ طور پر اس جگہ کو ایک اضافہ اسپیکر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اس ڈیوائس پر موسیقی سننا چاہیں تو تو بلیو ٹوتھ ہیڈ فونز استعمال کرنے پڑیں گے۔ ہوم بٹن بھی ری ڈیزائن ہونے کا امکان ہے تاہم اس میں تھری ڈی ٹچ کی ٹیکنالوجی موجود رہے گی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئے آئی فون میں پہلے سے طاقتور چپ موجود ہوگی یعنی اے 10۔ انٹیل کی جانب سے بھی آئی فون سیون کے لیے ایک چپ فراہم کی جائے گی جو ایک موڈیم ہوگا تاکہ اسے وائرلیس ایل ٹی ای نیٹ ورکس پر استعمال کیا جاسکے۔ اور ہاں نئے آئی فون کی بیٹری پہلے سے طاقتور ہوگی یعنی پہلے سے بہتر بیٹری لائف۔ ایسے بھی امکانات ہیں کہ نیا آئی فون واٹر ریزیزٹنٹ ہوگا۔
Tuesday, August 30, 2016
اب فیس بک اور واٹس ایپ ایک بڑی تبدیلی کرنے جا رہے ہیں
دنیا جوں جوں آگے بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت آتی جا رہی ہے ۔ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ واٹس ایپ میں متنازع نئی شرائط یعنی ڈیٹا فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کو اشتہارات دکھانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کے ساتھ واٹس ایپ بلاگ میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا جو متنازع شرائط کے باعث دب گیا۔واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات اسپام نہیں ہوں گے بلکہ کاروباری ادارے لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں گے،اس سے قبل گزشتہ روز واٹس ایپ نے ایک بہت بڑی تبدیلی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہ اپنے صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرسکے گی۔جیسا آپ کو معلوم ہے کہ واٹس ایپ فیس بک نے 2014 میں خرید لی تھی تاہم اب تک اس کے صارفین اپنی معلومات یا چیزیں فیس بک پر شیئر نہیں کرسکتے تھے۔جنوری میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فیس بک اور واٹس ایپ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے حوالے سے کام ہورہا ہے اور اب آپ پسند کریں یا نہ کریں مگر اس کا اطلاق شروع ہوگیا ہے۔پرائیویسی ایڈووکیٹس نے دنیا کی دو مقبول ترین سوشل نیٹ ورکس کے درمیان ڈیٹا کی شیئرنگ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کو شیئر کرنے آئندہ چند ماہ میں متعارف کرائے جانے والے نئے فیچرز کی آزمائش کے لیے ضروری ہے جس کے تحت اب میسنجر کے صارفین کو اشتہارات کا سامنا بھی ہوگا۔اس حوالے سے واٹس ایپ اپنی شرائط میں اب فون نمبر، پروفائل نام اور تصویر، آن لائن اسٹیٹس، اسٹیٹس میسج، لاسٹ سین اسٹیٹس اور ریسپٹس وغیرہ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرنے کو شامل کرنے والی ہے۔تاہم واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ صارفین کے دوستوں سے پیغامات اور ان میں موجود مواد وغیرہ کو شیئر ہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے جسے فیس بک نے کچھ سال پہلے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تھا مگر مارک زکربرگ کو اب تک اس سے کوئی آمدنی نہیں ہورہی۔ویسے تو واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا کسی حکومت کو بھی فراہم نہیں کرتی یا رسائی نہیں دیتی مگر اس تبدیلی کے بعد خدشہ ہے کہ حکومتوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم نہ کیا جانے لگے۔
واٹس ایپ نے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے دو آپشنز بھی دیئے ہیں۔
جب آپ کو نئی ٹرمز آف سروسز کا نوٹیفکیشن موصول ہو تو سب سے پہلے ‘ریڈ’ کے بٹن پر کلک کرکے مکمل دستاویز کا جائزہ لیں اور نیچے اسکرول کریں جہاں ایک چیک باکس نظر آئے جس کے نیچے لکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کی انفارمیشن فیس بک کے ساتھ شیئر کریں، اسے ان چیک کرکے ایگری پر کلک کریں۔
واٹس ایپ نے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے دو آپشنز بھی دیئے ہیں۔
جب آپ کو نئی ٹرمز آف سروسز کا نوٹیفکیشن موصول ہو تو سب سے پہلے ‘ریڈ’ کے بٹن پر کلک کرکے مکمل دستاویز کا جائزہ لیں اور نیچے اسکرول کریں جہاں ایک چیک باکس نظر آئے جس کے نیچے لکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کی انفارمیشن فیس بک کے ساتھ شیئر کریں، اسے ان چیک کرکے ایگری پر کلک کریں۔
کوئی بھی یو ایس بی اپنے سسٹم پر لگانے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں
دنیا جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے اور ٹیکنالوجی ہر آنے والے لمحے میں اپنے اندر وسعت لاتی جا رہی ہے ۔ تو ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ اپنے سسٹم میں کوئی بھی نئی یو ایس بی لگانے سے پہلے یہ احتیاط کریں کہ وہ آپ کے سسٹم کیلئے محفوظ ہے کہ نہیں۔ چونکہ مارکیٹ میں ایک ایسی ڈیوائس فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہے جو آپ کے سسٹم پر لگتے ہی اسے ناکارہ بنا سکتی ہے ۔اکتوبر 2015 میں ‘یو ایس بی کِلر’ نامی ڈیوائس کا نمونہ پیش کیا گیا تھا جو بجلی کی لہر کی مدد سے کسی بھی ڈیوائس کو جلا سکتی تھی، اْس وقت تو یہ صرف ایک تصور تھا مگر اب اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی ہے۔یو ایس بی کِلر ویب پیج کے مطابق ‘یہ ایک آزمائشی ڈیوائس ہے جو ہر سیکیورٹی آڈیٹر اور ہارڈوئیر ڈیزائنر کے اسلحہ خانے میں ہونی چاہیئے’۔یہ کمپنی ‘یو ایس بی ٹیسٹ شیلڈ’ بھی فروخت کررہی ہے جو ‘یو ایس بی کلر’ کے تباہ کن بجلی کے جھٹکے سے ڈیوائس کو بچانے کا کام کرتی ہے۔ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ یو ایس بی لگائے جانے پر 95 فیصد ڈیوائسز کو تباہ کردیتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ مذاق کے لیے اس کا استعمال کیسے روکا جائے گا۔پہلے کہا جارہا تھا کہ اس یو ایس بی کو ایک روسی ہیکر ڈارک پرپل نے تیار کیا ہے مگر اب ویب سائٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ اسے تیار کرنے والا کون ہے تاہم یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ اس کمپنی کا مرکز ہانگ کانگ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیکیورٹی مسائل کمپنیوں کو ہارڈوئیر کے بہتر تحفظ کے لیے تیار کریں گے۔اور ہاں اگرچہ 95 فیصد ہارڈوئیر اس یو ایس بی کا شکار بن سکتے ہیں مگر ان میں ایپل شامل نہیں۔اس کی قیمت 56 ڈالرز رکھی گئی ہے جبکہ ٹیسٹ شیلڈ 16 ڈالرز کی ہے۔
Monday, August 29, 2016
کیا آپ کو معلوم ہے یوٹیوب کیوں شروع کی گئی ؟
سان فرانسسکو: دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور ویڈیو ویب سائٹ یوٹیوب کی بنیاد تین دوستوں چیڈ ہرلی، سٹیو چین اور جاوید کریم نے رکھی اور اگرچہ ہم سب اس ویب سائٹ کے مداح ہیں مگر ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان دوستوں کے ذہن میں اس قدر اچھوتا آئیڈیا کیسے آیا۔ یہ تینوں دوست پے پیل نامی کمپنی کے ملازم تھے۔ چیڈ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے طالب علم تھے جبکہ چین اور کریم یونیورسٹی اور الینائے کے طالبعلم ایک مشہور کہانی کے مطابق چین کے اپارٹمنٹ پر ایک ڈنر پارٹی منعقد کی گئی جس میں کریم شریک نہیں تھا اور اس نے یہ ماننے سے انکار کردیا اور اس کے دوستوں نے پارٹی منعقد کی تھی۔ کہانی کے مطابق ان دوستوں کو اس بات کا پچھتاوا ہوا کہ اگر انہوں نے ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی ہوتی تو وہ فوری طور پر کریم کو دکھا سکتے تھے۔ اگرچہ اسے یوٹیوب قائم کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے لیکن اصل میں یہ کہانی درست نہیں ہے۔کریم کا کہنا ہے کہ اصل کہانی یہ ہے کہ وہ 2004ءمیں سپر باﺅل ٹی وی شو میں جینٹ جیکسن کے کردار کی ویڈیو کہیں سے حاصل نہیں کرپارہے تھے اور اسی طرح جب انہیں 2004ءمیں آنے والے سونامی کی ویڈیوز بھی دستیاب نہیں ہورہی تھیں تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویب سائٹ کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا کہ جہاں پر لوگ اپنی بنائی گئی ویڈیوز شیئر کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدائی آئیڈیا ہاٹ آر ناٹ ویب سائٹ سے لیا اور پھر 2005ءمیں یوٹیوب کی بنیاد رکھ دی۔ اس کا پہلا دفتر ریاست کیلیفورنیا کے علاقہ سیم ماتیو میں ایک جاپانی پیزا ریسٹورنٹ کی بالائی منزل پر واقعہ تھا۔ یوٹیوب ڈومین نیم کو فروری 2005ءمیں ایکٹیویٹ کیا گیا۔ پہلی یوٹیوب ویڈیو کا عنوان “Me at the zoo” تھا اور یہ جاوید کریم نے سین ڈیاگو چڑیا گھر میں بنائی تھی۔ یہ ویڈیو آج بھی یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔
Sunday, August 28, 2016
گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا
گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا ہے جس میں ایسے کئی فیچرز ہیں جو اس سے پہلے کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں موجود نہیں تھے۔ ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ کوخاص طور پر گوگل کے نئے ’’نیکسس‘‘ موبائل فونز اور ٹیبلٹس کےلئے بنایا گیا ہے۔ یہ اتنا جدید ہے کہ بیشتر موجودہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے لیکن مستقبل میں گوگل کو اس سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ مختلف چھوٹی بڑی اسمارٹ فون کمپنیاں اس موبائل آپریٹنگ سسٹم کی طرف بتدریج متوجہ ہوں گی اور چند سال میں یہ اینڈروئیڈ کی دنیا میں چھا جائے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ نوگاٹ اگرچہ موجودہ اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹمز کے مقابلے میں کچھ خاص مختلف نہیں لیکن اپنے فیچرز کے اعتبار سے یہ واقعی بے حد غیرمعمولی ہے۔ اس کے کچھ دلچسپ فیچرز ملاحظہ کیجئے: اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹمز کی زبان میں اسکرین پر ایک وقت میں ایک سے زیادہ ایپلی کیشن ونڈوز کھولنے کا عمل ’’ملٹی ٹاسکنگ‘‘ کہلاتا ہے جو ابھی تک کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں دستیاب نہیں تھا۔ لیکن نوگاٹ میں ’’اسپلٹ اسکرین‘‘ فیچر کو آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے تحت آپ نہ صرف اسمارٹ فون اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس دیکھ سکیں گے بلکہ اپنی سہولت کے حساب سے ایپ ونڈوز کو چھوٹا بڑا بھی کرسکیں گے۔ اس فیچر کی سپورٹ فی الحال بیشتر ایپس میں موجود نہیں لیکن امید ہے کہ آئندہ ورژنز میں یہ دستیاب ہوگی۔ فوری جواب اس نئے فیچر کی مدد سے نوگاٹ استعمال کرنے والے صارفین کسی بھی ای میل یا ایس ایم ایس کا جواب کوئی ایپ کھولے بغیر ہی، اینڈروئیڈ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر ٹائپ کرکے دے سکیں گے۔ یہ فیچر بطورِ خاص وقت بچانے کےلئے متعارف کروایا جارہا ہے۔ ایموجیز صارفین کی دلچسپی کےلئے نوگاٹ میں 72 ایموجیز پر مشتمل ایک نیا سیٹ بھی متعارف کروایا گیا ہے جس میں مختلف جانوروں کی شکلیں بطورِ خاص قابلِ توجہ ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مزید ایموجیز شامل کرنے کےلئے یونی کوڈ کنسورشیم سے اس کے مذاکرات جاری ہیں جن کی تکمیل کچھ وقت لگ جائے گا۔ نوٹی فکیشن خاموش کیجئے نوگاٹ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر آپ بار بار نوٹی فکیشن دے کر پریشان کرنے والی ایپس کو خاموش کرسکتے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے آپ نہ صرف کسی ایپ کے نوٹی فکیشنز کو خاموش کرسکتے ہیں بلکہ اسے نظروں سے اوجھل بھی کرسکتے ہیں۔ شارٹ کٹس نوگاٹ کے نوٹی فکیشن ایریا میں شارٹ کٹس بھی ہیں جنہیں آپ اپنی سہولت اور استعمال کے اعتبار سے کسٹمائز کرسکتے ہیں اور وائی فائی، بلیو ٹوتھ، ایئرپلین موڈ اور فلیش لائٹ وغیرہ تک فوری رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈیٹا سیور اسمارٹ فونز کا دیرینہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان میں موجود ایپس استعمال نہ ہورہی ہوں تب بھی وہ مسلسل ڈیٹا بھیجتی اور وصول کرتی رہتی ہیں اور ڈیٹا کے اس تبادلے کے اخراجات صارف کو اپنی جیب سے بھرنے پڑتے ہیں۔ نوگاٹ میں اس مسئلے کا حل ’’ڈیٹا سیور‘‘ فیچر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ ایپس کو پابند بناسکتے ہیں کہ وہ استعمال نہ ہونے کی صورت میں ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے سے بھی باز رہیں۔ یہ فیچر پاکستان جیسے ممالک میں متوسط طبقے کےلئے بے حد مفید ہے۔ بیٹری کو زیادہ دیر تک چلائے اینڈروئیڈ مارش میلو میں بیٹری بچانے کےلئے ’’ڈوز‘‘ کے نام سے جو فیچر متعارف کروایا گیا تھا، نوگاٹ میں اسے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کے اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کی اسکرین آف ہو اور وہ چارج بھی نہ ہورہا ہو تو بیٹری بچانے کی غرض سے ڈوز تمام بیک گراؤنڈ ایپس کو کم سے کم ممکنہ ایکٹیویٹی پر لے آتا ہے۔ اس صورت میں صرف اور صرف فون کالز اور میسجز ہی ریسیو کئے جاسکتے ہیں اور الارم ہی کام کرسکتا ہے۔ نوگاٹ میں یہ فیچر موبائل فون کے جیب یا پرس میں رکھتے ہی خود بخود آن ہوجاتا ہے۔ سب کچھ صاف موبائل پر چلتی ہوئی تمام ایپس کو ایک ساتھ بند کرنے کےلئے اس کے ہر فن مولا، چوکور بٹن کے ساتھ نیا ’’کلیئر آل‘‘ کا فیچر شامل کردیا گیا ہے۔ اس سے بیٹری کی بچت میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن گوگل کا کہنا ہے کہ اس سے کچھ ایپس کو نئے سرے سے اسٹارٹ کرنے میں بڑی سہولت ہوجائے گی۔ جان بچانے والی معلومات کچھ معلومات آپ کی صحت اور تندرستی کےلئے بہت ضروری ہوتی ہیں جیسے کہ خون کا گروپ، الرجی، دوائیں، ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے نمبر، آپ کا نام اور عمر وغیرہ۔ ان تمام کو علیحدہ سے محفوظ کرنے کےلئے نوگاٹ میں ایک نئے بلٹ ان فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ آپشن تک شامل ہے کہ حادثے کی صورت میں آپ کے خصوصی رابطہ افراد آپ کے فون کا مقام معلوم کرکے فوری مدد کا بندوبست بھی کرسکتے ہیں۔ آپ کی جان بچانے والی تمام معلومات اس طرح سے محفوظ ہوتی ہیں کہ فون لاک ہونے کی صورت میں بھی اسکرین پر موجود ’’ایمرجنسی‘‘ بٹن کے ذریعے یہ تمام معلومات فوری دیکھی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، فون ان لاک کئے بغیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فوری کال کی جاسکتی ہے۔
Friday, August 26, 2016
گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں
گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے نمائندے ڈیزائننگ اور ویب ڈویلپمنٹ میں دلچسپی رکھنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیز کا دورہ کر رہی ہے۔
اپنے 11 روزے کے دوران گوگل کے نمائندے پاکستان کی نو یونیورسٹیوں میں جائیں گے۔
گوگل نے پاکستان آنے کے لیے اپنا جو شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ 30 اگست کو انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے اپنا دورہ شروع کریں گے اور یہ عمل نو ستمبر کو یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے دورے پر ختم ہو گا۔
اس دوران یہ ٹیم کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز، ٹوپی ضلع صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور لاہور میں لمز اور یو ای ٹی کے علاوہ یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کا دورہ کرے گی۔
گوگل کے نمائندوں کے دورۂ پاکستان کا مقصد چھوٹے ڈویلپرز، ڈیزائنرز اور بلاگرز کے کام کی حوصلہ افزائی کے علاوہ انھیں ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے پیسہ کمانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر گوگل کی نئی منصوعات گوگل ایڈ سینس اور گوگل ایڈ موب کو بھی متعارف کروایا جائے گا۔
گوگل کا یہ ایونٹ ویب ڈیزائینگ اور ایپ ڈویلمپنٹ میں اپنا کریئر شروع کرنے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے مدد گار ثابت ہو گا۔
Monday, August 22, 2016
اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔
اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔
اسلام آباد(ما نیٹرنگ ڈیسک ) کیا آپ کو فیس بک پر انگلش میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ لکھنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے ؟ اگر ہاں تو اب کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ ہی آپ کی مدد کرے گی۔جی ہاں فیس بک نے خودکار ترجمہ کرنے والا فیچر متعارف کرادیا ہے جو مختلف زبانوں میں آپ کی پوسٹس کو شائع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ملٹی لینگویج کمپوزر نامی اس فیچر کے ذریعے آپ کسی ایک زبان میں اپنی پوسٹ کو لکھیں اور پھر اپنی پسند کی دیگر زبانوں کا انتخاب کرلیں جن میں شائع کرنا چاہتے ہیں اور پبلش کردیں۔مثال کے طور پر اگر آپ انگلش میں کچھ لکھتے ہیں اور ہسپانوی زبان میں پبلش کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیا کمپوزر آپ کی مدد کرے گا۔ابھی اس ٹول میں 45 زبانیں موجود ہیں اور فیس بک کا کہنا ہے کہ جلد ان میں اضافہ کیا جائے گا۔اس فیچر کو استعمال میں لانے کے لیے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جاکر post in multiple languages پر کلک کریں۔
Thursday, August 18, 2016
گوگل نے سمارٹ فون پر ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی
گوگل نے سمارٹ فون پر ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ایک اور زبردست سروس متعارف کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق گوگل نے سمارٹ فون پر اپنی ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی ہے۔ گوگل نے سمارٹ فونز کے لیے اپنی ویڈیو کالنگ سروس ڈیو لانچ کر دی ہے۔ اپلیکیشن کو سمارٹ فون میں مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ گوگل کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی اس سروس میں منفرد بات یہ ہے کہ ا?پ کو کال کرنے والے شخص کا چہرہ سکرین پر کال اٹھانے سے پہلے ہی نظر آجاتا ہے۔ اپلیکیشن کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو گوگل اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے موبائل نمبر کے ذریعے بھی اپلیکیشن کو استعمال کر سکتے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں می...
-
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ مواد فیس بک پر شیئر کرنے والے ملزم کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کا حکم سنادیا۔جرمان...
-
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنج...












