Tuesday, August 30, 2016

اب فیس بک اور واٹس ایپ ایک بڑی تبدیلی کرنے جا رہے ہیں

دنیا جوں جوں آگے بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت آتی جا رہی ہے ۔ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ واٹس ایپ میں متنازع نئی شرائط یعنی ڈیٹا فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کو اشتہارات دکھانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کے ساتھ واٹس ایپ بلاگ میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا جو متنازع شرائط کے باعث دب گیا۔واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات اسپام نہیں ہوں گے بلکہ کاروباری ادارے لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں گے،اس سے قبل گزشتہ روز واٹس ایپ نے ایک بہت بڑی تبدیلی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہ اپنے صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرسکے گی۔جیسا آپ کو معلوم ہے کہ واٹس ایپ فیس بک نے 2014 میں خرید لی تھی تاہم اب تک اس کے صارفین اپنی معلومات یا چیزیں فیس بک پر شیئر نہیں کرسکتے تھے۔جنوری میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فیس بک اور واٹس ایپ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے حوالے سے کام ہورہا ہے اور اب آپ پسند کریں یا نہ کریں مگر اس کا اطلاق شروع ہوگیا ہے۔پرائیویسی ایڈووکیٹس نے دنیا کی دو مقبول ترین سوشل نیٹ ورکس کے درمیان ڈیٹا کی شیئرنگ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کو شیئر کرنے آئندہ چند ماہ میں متعارف کرائے جانے والے نئے فیچرز کی آزمائش کے لیے ضروری ہے جس کے تحت اب میسنجر کے صارفین کو اشتہارات کا سامنا بھی ہوگا۔اس حوالے سے واٹس ایپ اپنی شرائط میں اب فون نمبر، پروفائل نام اور تصویر، آن لائن اسٹیٹس، اسٹیٹس میسج، لاسٹ سین اسٹیٹس اور ریسپٹس وغیرہ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرنے کو شامل کرنے والی ہے۔تاہم واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ صارفین کے دوستوں سے پیغامات اور ان میں موجود مواد وغیرہ کو شیئر ہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے جسے فیس بک نے کچھ سال پہلے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تھا مگر مارک زکربرگ کو اب تک اس سے کوئی آمدنی نہیں ہورہی۔ویسے تو واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا کسی حکومت کو بھی فراہم نہیں کرتی یا رسائی نہیں دیتی مگر اس تبدیلی کے بعد خدشہ ہے کہ حکومتوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم نہ کیا جانے لگے۔
واٹس ایپ نے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے دو آپشنز بھی دیئے ہیں۔
جب آپ کو نئی ٹرمز آف سروسز کا نوٹیفکیشن موصول ہو تو سب سے پہلے ‘ریڈ’ کے بٹن پر کلک کرکے مکمل دستاویز کا جائزہ لیں اور نیچے اسکرول کریں جہاں ایک چیک باکس نظر آئے جس کے نیچے لکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کی انفارمیشن فیس بک کے ساتھ شیئر کریں، اسے ان چیک کرکے ایگری پر کلک کریں۔

کوئی بھی یو ایس بی اپنے سسٹم پر لگانے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں

دنیا جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے اور ٹیکنالوجی ہر آنے والے لمحے میں اپنے اندر وسعت لاتی جا رہی ہے ۔ تو ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ اپنے سسٹم میں کوئی بھی نئی یو ایس بی لگانے سے پہلے یہ احتیاط کریں کہ وہ آپ کے سسٹم کیلئے محفوظ ہے کہ نہیں۔ چونکہ مارکیٹ میں ایک ایسی ڈیوائس فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہے جو آپ کے سسٹم پر لگتے ہی اسے ناکارہ بنا سکتی ہے ۔اکتوبر 2015 میں ‘یو ایس بی کِلر’ نامی ڈیوائس کا نمونہ پیش کیا گیا تھا جو بجلی کی لہر کی مدد سے کسی بھی ڈیوائس کو جلا سکتی تھی، اْس وقت تو یہ صرف ایک تصور تھا مگر اب اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی ہے۔یو ایس بی کِلر ویب پیج کے مطابق ‘یہ ایک آزمائشی ڈیوائس ہے جو ہر سیکیورٹی آڈیٹر اور ہارڈوئیر ڈیزائنر کے اسلحہ خانے میں ہونی چاہیئے’۔یہ کمپنی ‘یو ایس بی ٹیسٹ شیلڈ’ بھی فروخت کررہی ہے جو ‘یو ایس بی کلر’ کے تباہ کن بجلی کے جھٹکے سے ڈیوائس کو بچانے کا کام کرتی ہے۔ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ یو ایس بی لگائے جانے پر 95 فیصد ڈیوائسز کو تباہ کردیتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ مذاق کے لیے اس کا استعمال کیسے روکا جائے گا۔پہلے کہا جارہا تھا کہ اس یو ایس بی کو ایک روسی ہیکر ڈارک پرپل نے تیار کیا ہے مگر اب ویب سائٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ اسے تیار کرنے والا کون ہے تاہم یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ اس کمپنی کا مرکز ہانگ کانگ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیکیورٹی مسائل کمپنیوں کو ہارڈوئیر کے بہتر تحفظ کے لیے تیار کریں گے۔اور ہاں اگرچہ 95 فیصد ہارڈوئیر اس یو ایس بی کا شکار بن سکتے ہیں مگر ان میں ایپل شامل نہیں۔اس کی قیمت 56 ڈالرز رکھی گئی ہے جبکہ ٹیسٹ شیلڈ 16 ڈالرز کی ہے۔

خلائی مخلوق بارے امریکی حکومت کیا جانتی ہے ؟

دنیا میں بہت سی تخلیقات اور راز ایسے ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے اور انہیں میں سے ایک خلائی مخلوق بھی ہے ۔کوئی اسے سچ مانتا ہے اور کوئی اسے جھوٹ تاہم امریکہ میں خلائی مخلوق کے متلاشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت جانتی ہے کہ دوسرے سیاروں سے خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ رکھی گئی اہم دستاویزات عنقریب منظر عام پر آنے والی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق خلائی مخلوق کے وجود پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 1947ء میں پیش آنے والے بدنام زمانہ واقعے ’’روزویل ‘‘میں خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری جانوروں کے ایک باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی لیکن امریکی حکومت اس واقعے کے شواہد بھی منظرعام پر نہیں لائی۔ اس وقت امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑے میں گرنے والی طشتری دراصل موسمی صورتحال بتانے والا غبارہ تھا، مگر کئی سال بعد معلوم ہوا کہ دراصل یہ ایک جاسوس طیارہ تھا جو ایٹمی خطرے کی نشاندہی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور گر کر تباہ ہو گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ تو موسمی غبارہ تھااور نہ ہی جاسوس طیارہ۔ وہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی جو زمین پر اترنے کے دوران اس باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اپالو 14کے خلانورد ایڈگر مشعیل، جو رواں برس فروری میں انتقال کر چکے ہیں، نے واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت نے اس حوالے سے ایک پورا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا کہ عوام کو یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ خلائی مخلوق انسانوں کی دشمن ہے اور آیا ہم اپنے آپ کو ان سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔ حکومت یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ سوویت یونین کو اس معاملے سے آگاہی ہو۔ اس پر پردہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ‘‘ کینیڈا کے ایک سابق وزیردفاع پاؤل ہیلیئر نے بھی دعویٰ کررکھا ہے کہ ’’خلائی مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ایسے کئی شواہد دیکھ رکھے ہیں جن سے خلائی مخلوق کی زمین پر آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ میں پوری یکسوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خلائی مخلوق کو دیکھ رکھا ہے یا جو لوگ خلائی مخلوق کے متعلق امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو لوگ 1947ء کے روزویل کے واقعے میں تباہ ہونے والی اڑن طشتری کا ملبہ دیکھنے کے داعی ہیں وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ واقعی خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی۔بحر حال کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔

Monday, August 29, 2016

کیا آپ کو معلوم ہے یوٹیوب کیوں شروع کی گئی ؟


سان فرانسسکو:  دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور ویڈیو ویب سائٹ یوٹیوب کی بنیاد تین دوستوں چیڈ ہرلی، سٹیو چین اور جاوید کریم نے رکھی اور اگرچہ ہم سب اس ویب سائٹ کے مداح ہیں مگر ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان دوستوں کے ذہن میں اس قدر اچھوتا آئیڈیا کیسے آیا۔ یہ تینوں دوست پے پیل نامی کمپنی کے ملازم تھے۔ چیڈ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے طالب علم تھے جبکہ چین اور کریم یونیورسٹی اور الینائے کے طالبعلم ایک مشہور کہانی کے مطابق چین کے اپارٹمنٹ پر ایک ڈنر پارٹی منعقد کی گئی جس میں کریم شریک نہیں تھا اور اس نے یہ ماننے سے انکار کردیا اور اس کے دوستوں نے پارٹی منعقد کی تھی۔ کہانی کے مطابق ان دوستوں کو اس بات کا پچھتاوا ہوا کہ اگر انہوں نے ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی ہوتی تو وہ فوری طور پر کریم کو دکھا سکتے تھے۔ اگرچہ اسے یوٹیوب قائم کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے لیکن اصل میں یہ کہانی درست نہیں ہے۔کریم کا کہنا ہے کہ اصل کہانی یہ ہے کہ وہ 2004ءمیں سپر باﺅل ٹی وی شو میں جینٹ جیکسن کے کردار کی ویڈیو کہیں سے حاصل نہیں کرپارہے تھے اور اسی طرح جب انہیں 2004ءمیں آنے والے سونامی کی ویڈیوز بھی دستیاب نہیں ہورہی تھیں تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویب سائٹ کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا کہ جہاں پر لوگ اپنی بنائی گئی ویڈیوز شیئر کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدائی آئیڈیا ہاٹ آر ناٹ ویب سائٹ سے لیا اور پھر 2005ءمیں یوٹیوب کی بنیاد رکھ دی۔ اس کا پہلا دفتر ریاست کیلیفورنیا کے علاقہ سیم ماتیو میں ایک جاپانی پیزا ریسٹورنٹ کی بالائی منزل پر واقعہ تھا۔ یوٹیوب ڈومین نیم کو فروری 2005ءمیں ایکٹیویٹ کیا گیا۔ پہلی یوٹیوب ویڈیو کا عنوان “Me at the zoo” تھا اور یہ جاوید کریم نے سین ڈیاگو چڑیا گھر میں بنائی تھی۔ یہ ویڈیو آج بھی یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔

بھارت، حادثات سے بچاؤ کیلئے گائے کے سینگوں پر چمکنے والی پٹیاں


بھارت میں گائے اور بیلوں کو ٹریفک حادثات سے بچانے کے لئے انوکھا انتظام کیا گیا ہے۔
پولیس نے ان گائے بیلوں کو ٹریفک حادثات سے بچانے کے لیے ان کی سینگوں پر چمکنے والی پٹیاں لگادی ہیں تاکہ رات کے وقت ڈرائیور انہیں با آسانی دیکھ سکیں اور کسی حادثے کا شکار نہ ہوں۔

Sunday, August 28, 2016

عبدالستا ر ایدھی پر فلم بنائی جا رہی ہے جس میں انڈین معروف اداکار کام کریں گے۔




 فلم پروڈیوسر حامد سلمان عبدالستار ایدھی پر فلم بنائیں گے جس کا کردار نصیر الدین شاہ کرینگے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی مرحوم نے امن ، محبت ، انسانیت اور بھائی چارے کے ذریعے عالمی سطح پر ملک وقوم کا نام روشن کیا۔ یہ فلم ان کو خراج عقید ت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ فلم ’’ آئی ایم ایدھی‘‘ کے نام سے بنائی جائیگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو ایسی ہی معیاری فلموں کی ضرورت ہے جس کے لیے ذریعے ہم اپنے ہیروز کو ٹریبوٹ دینے کیساتھ ایم ایشو کو پردہ اسکرین پر لاسکتے ہیں۔ فلم کی آمدن کا دس فیصد ایدھی فاونڈیشن کو دیا جائے گا، اس موقع پر ان کے ساتھ فلم کے رائٹر محمد عمر، ملک زاہد مصطفی، عطا شاہکار، اسد اللہ شاہ اورخدیجہ بھی موجود تھیں

گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا


گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا ہے جس میں ایسے کئی فیچرز ہیں جو اس سے پہلے کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں موجود نہیں تھے۔ ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ کوخاص طور پر گوگل کے نئے ’’نیکسس‘‘ موبائل فونز اور ٹیبلٹس کےلئے بنایا گیا ہے۔ یہ اتنا جدید ہے کہ بیشتر موجودہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے لیکن مستقبل میں گوگل کو اس سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ مختلف چھوٹی بڑی اسمارٹ فون کمپنیاں اس موبائل آپریٹنگ سسٹم کی طرف بتدریج متوجہ ہوں گی اور چند سال میں یہ اینڈروئیڈ کی دنیا میں چھا جائے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ نوگاٹ اگرچہ موجودہ اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹمز کے مقابلے میں کچھ خاص مختلف نہیں لیکن اپنے فیچرز کے اعتبار سے یہ واقعی بے حد غیرمعمولی ہے۔ اس کے کچھ دلچسپ فیچرز ملاحظہ کیجئے: اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹمز کی زبان میں اسکرین پر ایک وقت میں ایک سے زیادہ ایپلی کیشن ونڈوز کھولنے کا عمل ’’ملٹی ٹاسکنگ‘‘ کہلاتا ہے جو ابھی تک کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں دستیاب نہیں تھا۔ لیکن نوگاٹ میں ’’اسپلٹ اسکرین‘‘ فیچر کو آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے تحت آپ نہ صرف اسمارٹ فون اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس دیکھ سکیں گے بلکہ اپنی سہولت کے حساب سے ایپ ونڈوز کو چھوٹا بڑا بھی کرسکیں گے۔ اس فیچر کی سپورٹ فی الحال بیشتر ایپس میں موجود نہیں لیکن امید ہے کہ آئندہ ورژنز میں یہ دستیاب ہوگی۔ فوری جواب اس نئے فیچر کی مدد سے نوگاٹ استعمال کرنے والے صارفین کسی بھی ای میل یا ایس ایم ایس کا جواب کوئی ایپ کھولے بغیر ہی، اینڈروئیڈ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر ٹائپ کرکے دے سکیں گے۔ یہ فیچر بطورِ خاص وقت بچانے کےلئے متعارف کروایا جارہا ہے۔ ایموجیز صارفین کی دلچسپی کےلئے نوگاٹ میں 72 ایموجیز پر مشتمل ایک نیا سیٹ بھی متعارف کروایا گیا ہے جس میں مختلف جانوروں کی شکلیں بطورِ خاص قابلِ توجہ ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مزید ایموجیز شامل کرنے کےلئے یونی کوڈ کنسورشیم سے اس کے مذاکرات جاری ہیں جن کی تکمیل کچھ وقت لگ جائے گا۔ نوٹی فکیشن خاموش کیجئے نوگاٹ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر آپ بار بار نوٹی فکیشن دے کر پریشان کرنے والی ایپس کو خاموش کرسکتے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے آپ نہ صرف کسی ایپ کے نوٹی فکیشنز کو خاموش کرسکتے ہیں بلکہ اسے نظروں سے اوجھل بھی کرسکتے ہیں۔ شارٹ کٹس نوگاٹ کے نوٹی فکیشن ایریا میں شارٹ کٹس بھی ہیں جنہیں آپ اپنی سہولت اور استعمال کے اعتبار سے کسٹمائز کرسکتے ہیں اور وائی فائی، بلیو ٹوتھ، ایئرپلین موڈ اور فلیش لائٹ وغیرہ تک فوری رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈیٹا سیور اسمارٹ فونز کا دیرینہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان میں موجود ایپس استعمال نہ ہورہی ہوں تب بھی وہ مسلسل ڈیٹا بھیجتی اور وصول کرتی رہتی ہیں اور ڈیٹا کے اس تبادلے کے اخراجات صارف کو اپنی جیب سے بھرنے پڑتے ہیں۔ نوگاٹ میں اس مسئلے کا حل ’’ڈیٹا سیور‘‘ فیچر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ ایپس کو پابند بناسکتے ہیں کہ وہ استعمال نہ ہونے کی صورت میں ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے سے بھی باز رہیں۔ یہ فیچر پاکستان جیسے ممالک میں متوسط طبقے کےلئے بے حد مفید ہے۔ بیٹری کو زیادہ دیر تک چلائے اینڈروئیڈ مارش میلو میں بیٹری بچانے کےلئے ’’ڈوز‘‘ کے نام سے جو فیچر متعارف کروایا گیا تھا، نوگاٹ میں اسے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کے اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کی اسکرین آف ہو اور وہ چارج بھی نہ ہورہا ہو تو بیٹری بچانے کی غرض سے ڈوز تمام بیک گراؤنڈ ایپس کو کم سے کم ممکنہ ایکٹیویٹی پر لے آتا ہے۔ اس صورت میں صرف اور صرف فون کالز اور میسجز ہی ریسیو کئے جاسکتے ہیں اور الارم ہی کام کرسکتا ہے۔ نوگاٹ میں یہ فیچر موبائل فون کے جیب یا پرس میں رکھتے ہی خود بخود آن ہوجاتا ہے۔ سب کچھ صاف موبائل پر چلتی ہوئی تمام ایپس کو ایک ساتھ بند کرنے کےلئے اس کے ہر فن مولا، چوکور بٹن کے ساتھ نیا ’’کلیئر آل‘‘ کا فیچر شامل کردیا گیا ہے۔ اس سے بیٹری کی بچت میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن گوگل کا کہنا ہے کہ اس سے کچھ ایپس کو نئے سرے سے اسٹارٹ کرنے میں بڑی سہولت ہوجائے گی۔ جان بچانے والی معلومات کچھ معلومات آپ کی صحت اور تندرستی کےلئے بہت ضروری ہوتی ہیں جیسے کہ خون کا گروپ، الرجی، دوائیں، ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے نمبر، آپ کا نام اور عمر وغیرہ۔ ان تمام کو علیحدہ سے محفوظ کرنے کےلئے نوگاٹ میں ایک نئے بلٹ ان فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ آپشن تک شامل ہے کہ حادثے کی صورت میں آپ کے خصوصی رابطہ افراد آپ کے فون کا مقام معلوم کرکے فوری مدد کا بندوبست بھی کرسکتے ہیں۔ آپ کی جان بچانے والی تمام معلومات اس طرح سے محفوظ ہوتی ہیں کہ فون لاک ہونے کی صورت میں بھی اسکرین پر موجود ’’ایمرجنسی‘‘ بٹن کے ذریعے یہ تمام معلومات فوری دیکھی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، فون ان لاک کئے بغیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فوری کال کی جاسکتی ہے۔