This blog is about knowledge of Information Technology and other social information.
Thursday, September 29, 2016
Tuesday, September 27, 2016
میموری کے مسائل کا خاتمہ ۔۔ ٹیکنالوجی ماہرین نے زبردست میموری کارڈ متعارف کرا دیا ۔۔
میموری مسائل سے دوچار ٹیکنالوجی صارفین پریشان ہونا چھوڑ دیں کیونکہ اب ان کا یہ مسئلہ بس ختم ہونے ہی والا ہے،جی ہاں ، ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچان رکھنے والی کمپنی’’سکین ڈسک‘‘ نے دنیا کا سب سے بڑا ایس ڈی کارڈ متعارف کرادیا ہے جس میں سو ،دو یا پانچ سو جی بی نہیں بلکہ ایک ٹی بی ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا یعنی پورا ایک ٹیرا بائٹ۔اس وقت یہ کارڈ آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور ابھی تک اس کی قیمت یا فروخت کی تاریخ کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی تاہم پھر بھی اسے ایک متاثر کن سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔اس کارڈ کو سان ڈسک کا نام دیا گیا ہے جسے ویسٹرن ڈیجیٹل نے تیار کیا ہے اور یہ وہ کمپنی ہے جس نے 16 سال قبل اپنا پہلا 64 ایم بی ایس ڈی کارڈ فروخت کے لیے پیش کیا تھا جبکہ دو سال قبل 512 جی بی کا کارڈ متعارف کرایا۔64 ایم بی سے موازنہ کیا جائے تو 1 ٹی بی ورڑن میں 16 ہزار گنا زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کارڈ میموری کے بڑھے تقاضے پورے کرے گا کیونکہ 4 کے اور 8 کے ویڈیوز، 360 ڈگری ویڈیو اور وی آر وغیرہ کے لیے بہت زیادہ میموری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ تھوڑا مہنگا ضرور ہوگا۔
انسانی سوچ سے بھی زیادہ تیز ترین وائی فائی ۔
سائنسدانوں کی انتھک محنت رنگ لانے لگیں حال ہی میں ایک ایسی ٹیکنالوجی نئے وائی فائی سسٹم پر کام کر رہے ہیں جو میگا میمو 2.0 کہلوانے والا یہ سسٹم موجودہ وائی فائی کی نسبت تین گنا زائد رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج بھی دوگنی ہے۔ ڈیٹا ترسیل کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کرتا ہے ۔امریکا میں ہونے والی اس تحقیق پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ کمپیوٹر سائنس انٹیلی جینس لیب کی مدد سے تیار کیا جارہاہے ۔ یہ ٹیکنالوجی بہت جلدلوگ اپنے گھروں میں استعمال کریں گے ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس یا پھر ایسی جگہ جہاںہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل سائنسدانوں مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی پر اپنی نظریں مرکوز کی ہوئیں ہیں جس کے زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔
آپ کی بجلی کی تاروں میں اب کرنٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی آپ تک پہنچے گی ۔
اے ٹی اینڈ ٹی لیبز نے ایک اچھوتے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دور دراز علاقوں میں تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ تیز رفتار انٹرنیٹ بھی پہنچایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابقپروجیکٹ ایئرگگ نامی اس منصوبے کی بدولت انٹرنیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں پر وقفے وقفے سے خصوصی مواصلاتی آلات لگائے جائیں گے جو اِن تاروں میں دوڑنے والی بجلی کے ساتھ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے سگنل بھی شامل کردیں گے۔ یعنی اضافی تاریں بچھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان دور دراز علاقوں، دیہاتوں، قصبوں اور آبادیوں کے لیے ہے جہاں بجلی تو موجود ہے لیکن وہاں تک مروجہ طریقوں کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانا یا تو بے حد مشکل ہے یا پھر بہت مہنگا سودا ہے۔
فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔
تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔
فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔
تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔
Thursday, September 22, 2016
میاں بیوی کی سالانہ لڑائی کی مکمل رپورٹ تیار کر لی گئی، تفصیلات انتہائی دلچسپ
لندن(نیوزڈیسک)گھریلو ناچاقی اور میاں بیوی کے درمیان الجھنیں ہر معاشرے اور ہر دور کا حصہ رہی ہیں اور اس سے نجات کے لیے ماہرین مختلف طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیوی ایک سال میں اپنے شوہر سے 8 ہزار منٹ تک الجھتی رہتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے 3000 افراد پر یہ تحقیق کی اور پتا چلایا کہ شوہر کی نسبت بیوی زیادہ چڑچڑے پن کا شکار رہتی اور اپنے خاوند اور دیگر افراد خانہ سے ا ±لجھتی رہتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے میں کم سے کم 2 گھنٹے 25 منٹ اور ماہانہ 11 گھنٹے بیوی اپنے شوہر سے لڑتی جھگڑتی ہے۔ چونکہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہر معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے ماہرین نفسیات بیوی کے چڑچڑے پن سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوی سے اس کی فطرت کے مطابق ہی سلوک کیا جائے۔ کسی بھی شخص کو سو فی صد تبدیل کرنا غیر منطقی ہے۔ تبدیلی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ الجھنوں کا شکار شخص خود جب تک تبدیلی کا عزم نہ کرے تو اس کی طبیعت اور مزاج میں فرق نہیں پڑے گا۔یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ آپ کے شریک حیات کے مزاج میں پائی جانے والی تلخی کے پس پردہ اس کی تعلیم، مخصوص ماحول میں پرورش اور اس کے موروثی مسائل میں سے کوئی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ اگر خاتون اپنے شوہر پر مخصوص اور متعین ذمہ داریاں ڈالتی ہے تو اس کے اس فطرت کو بتدریج بدلا جا سکتا ہے۔شریک حیات میں سے دونوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تبدیلی پلک جھپکتے نہیں آجاتی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بتدریج اور تکرار کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔ آپ اپنے شریک حیات میں ایسی ناپسندیدہ عادات دیکھتے ہیں جنہیں آپ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسے قائل کرنے کے لیے مسلسل انداز میں مثبت کوششیں جاری رکھیں۔
گوگل نے نئی شاندار ایپ متعارف کرا دی
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور ایپل کے آئی میسج کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور گوگل کو توقع ہے کہ اس کی ایپ ان تینوں کے مقابلے میں کامیاب ثابت ہوگی۔اس سے قبل گوگل نے اپنی ایپ ہینگ آؤٹ متعارف کروائی تھی، جو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن اس بار گوگل کچھ مختلف سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔درحقیقت ایلو کو گوگل نے اپنی سب سے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کیا ہے اور وہ ہے مشین لرننگ ٹیکنالوجی جسے گوگل اسسٹنٹ کا نام دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک ایسا چیٹ بوٹ ہے جو صارف اور اس کے دوستوں کو چیٹ ہسٹری فراہم کرے گا جبکہ متعدد گوگل پراڈکٹس کو بھی چیٹ کے دوران سامنے لائے گا۔اس ایپ میں صارف اپنے میسج کا سائز بدل سکے گا، خودکار ریپلائی، گوگل اسسٹنٹ سے چیٹ کرکے مختلف چیزوں یا ارگرد کے علاقے کے بارے میں معلومات کا حصول، اسٹیکرز، تصاویر ڈرا کرنا (فی الحال یہ صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے) اور سیکرٹ موڈ وغیرہ اس کے خاص فیچرز ہیں۔اس سیکرٹ موڈ میں صارف اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجز بھیج سکے گا جو کہ کچھ سیکنڈز بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائیں گے۔
Saturday, September 17, 2016
میں نے3راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں، ایک ماہی گیر کا انوکھا واقع
سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپر کئی روز بعد دوبارہ ظاہر ہوگیاہے۔ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپین کی کوسٹ گارڈ کے کئی روز تک سمندر میں تلاش کرنے کے بعد جب 56سالہ ماہی گیر کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تو یہ یقین ہوگیا کہ وہ سمندری مخلوق کی خوراک بن چکاہے۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
Thursday, September 15, 2016
ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کا حل آخر انسان نے ڈھونڈ ہی نکالا، ایک ایسا انکشاف جو ذہنوں کو ہلا کر رکھ دے
مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں میں رہی ہے ۔ مختلف طریقے تلاش کئے گئے ، مختلف ترکیبیں اپنا ئی گئیں ۔مگر انسان کو زوال آکر ہی ر ہا۔ ایک انٹرنیشنل اخبار کے مطابق دمتری اسکوف نے دنیا کے بہترین نیورو سائنسدانوں، شعور پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور روبوٹ سازوں کو جمع کرلیا ہے، تاکہ وہ اپنا دماغ ایک جدید روبوٹ میں اپ لوڈ کرسکیں، اور یوں اپنے فانی جسم کی قید سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوکر ایک روبوٹ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکیں۔ دمتری اسکوف نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے دنیا کا ذہین ترین روبوٹ ایریکا تیار کرنے والی جاپانی کمپنی کی مدد بھی حاصل کرلی ہے۔ سائنسدان دمتری اسکوف کے دماغ میں موجود تمام ڈیٹا، خصوصاً ان کے احساسات، جذبات اور یادداشتوں کو روبوٹ کی میموری میں منتقل کریں گے۔اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب سپر کمپیوٹر جیسی میموری اور پراسیسنگ کی طاقت رکھنے والے روبوٹ میں انسانی دماغ کے تمام احساسات و خیالات منتقل کردئیے جائیں گے تو یہ ہوبہو انسانی دماغ کی طرح کام کرے گا۔ دمتری اسکوف نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ 2045 تک اپنے انسانی جسم سے نکل کر ایک روبوٹ میں منتقل ہوچکا ہو گا اور اس نئی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکے گا۔
دوسری جانب کچھ سائنسدانوں نے اس پراجیکٹ کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں ایک عالمی شہرت یافتہ نیورو سائنسدان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو سرا سر احمقانہ خیال قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کچھ سائنسدانوں نے اس پراجیکٹ کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں ایک عالمی شہرت یافتہ نیورو سائنسدان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو سرا سر احمقانہ خیال قرار دیا ہے۔
فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹرکی مشترکہ کاروائی، بڑا اعلان
لندن ( این این آئی) فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے یورپین کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا جسے درخواست ملنے پر اس کے 24گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ کی دنیا کی 4بڑی کمپنیوں فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے نفرت انگیز مواد کے خلاف کریک ڈان کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ہر طرح کے نازیبا مواد کو رپورٹ کرنے پر 24گھنٹوں کے اندر جائزہ لے کر سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کی سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔نوجوان نسل کو خراب کرنے کے لیے دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے کی تضحیک کرنے اور ذاتی لڑائیوں کا بدلہ لینے کے لیے بھی ایک دوسرے کے خلاف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلے بھی کسی نازیبا مواد کو رپورٹ کیا جاسکتا تھا لیکن اب سماجی رابطوں کی ان بڑی کمپنیز نے وعدہ کیا ہے کہ اس طرح کے مواد کو ان کے دنیا بھر میں موجود نمائندے بروقت جائزہ لینے کے بعد 24گھنٹوں کے اندر اندر حذف کر دیں گے۔فیس بک اور ٹوئٹر جو کہ اس وقت سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہیں وہ اس حوالے سے کچھ مزید اقدامات میں بھی مصروف ہیں۔ ان اقدامات کے تحت آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کو بھی نفرت انگیز اور نازیبا مواد کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ نظام ان ویب سائٹس پر موجود قابل اعتراض تصاویر کی خود بخود نشاندہی کرکے انہیں حذف کر سکتا ہے۔ مثلا فحش اور اسلحہ تھام کر بنائی گئی تصویروں کو یہ نظام جلد اور زیادہ تعداد میں ڈھونڈ سکے گا۔ یعنی انسانوں کی نشاندہی کے مقابلے میں یہ نظام خود ہی زیادہ تر قابل اعتراض مواد کو پکڑ لے گا۔سوشل میڈیا کو پرامن اور دوستانہ رابطوں کے ذرائع برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کی ان چاروں بڑی کمپنیوں کا یہ اتحاد وقت اور حالات کی اشد ضرورت تھا۔
آج کے بعد فیس بک پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ مواد فیس بک پر شیئر کرنے والے ملزم کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کا حکم سنادیا۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کومزید ایک سال قید کی سز ا بھگتنا ہو گی۔ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کرنے کے جرم میں نوید احمد کو زیر دفعہ گیارہ ڈبلیو اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9کے تحت مجموعی طور پر دو دو سال قید اور 50،50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔فاضل جج نے ممنوعہ لٹریچر کی تشہیر اور برآمدگی پر سلانوالی کے ملزمان محمد ذوالفقار اور حنیف الرحمن کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔استغاثہ کے مطابق فیصل آباد کے رہائشی ملزم نوید احمد پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کیا تھا جس پر مئی کے مہینے میں تھانہ سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم نوید احمد کو حراست میں لیا تھا ۔
موبائل فون پر میسیج آپ کو ایک خطرناک بیماری میں مبتلا کر رہے ہیں، اہم تحقیق
سر جھکا کر موبائل فون پر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے خبردار، پٹھوں کا درد، کمر کی تکلیف اور آنکھوں کی کمزوری کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سر کو جھکا کر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے موبائل فون صارفین میں صحت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، وفاقی داراحکومت کے اسپتالوں میں بھی ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو فون کے مسلسل استعمال کے باعث پٹھوں کی تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔موبائل فون جہاں ضرورت ہے، وہیں اس کا بے جا استعمال کچھ جسمانی تکالیف کو بھی جنم دے رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ میسجنگ کرنے یا لمبی کال سننے کے لئے سر کو مسلسل جھکائے رکھنے سے گردن کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ڈاکٹر وں کے مطابق موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گردن کا درد زیادہ ہوتا ہے، سر ایک طرف جھکا کر جو مسلسل بات کرتے ہیں، ان کی گردن کا درد ہوتا ہے، ٹیکسٹ میسجینگ کرنے سے انگلیوں کے جوائنٹس کے درد کے مریضوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں گردن پر متبادل سمت میں پڑنے والا دباو اندرونی سوجن پیدا کرتا ہے، تکلیف کا شکار مریضوں کو مخصوص مشقوں کے ساتھ پٹھوں کو حرارت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فون کا استعمال ضرور کیجئے لیکن ا?ئی لیول کا خیال بھی رکھیں، کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
Sunday, September 11, 2016
زیادہ تر کاروبار ناکام کیوں ہوتے ہیں؟گوگل کے سربراہ نے ”راز“سے پردہ اٹھادی
گوگل سے قبل کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کررہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنیاں یا تو ختم ہوگئیں یا پھر ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ میدان عمل سے تقریباًباہر نکل گئیں ۔لیکن گوگل نے بعد میں آنے کے بعد بھی دنیا میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔آخر اس بات کی کیا وجہ ہے کہ گوگل سب سے آگے ہے اور باقی کاروبار تباہ ہورہے ہیں یا وہ بہت پیچھے ہیں۔گوگل کے سربراہ ایرک شمیڈیٹ نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ کاروبار اس لئے تباہ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک کام تو بہت اچھے طریقے سے سرانجام دیتے ہیں لیکن دوسرے کام کے لئے سوچتے بھی نہیں اور اس پر ان کی توجہ بالکل بھی نہیں ہوتی۔اس کا کہنا تھا کہ ایسی کمپنیاں اپنا ویژن وسیع نہیں کرتیں اور آنے والے وقت کی ضرورتوں کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھ پاتیں ۔اس کا کہنا تھا کہ گوگل ان تمام باتوں پر توجہ دیتا ہے جو وقت کی ضرورت ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی ایک ارتقائی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انقلابی عمل ہے۔ایرک کا کہنا تھا کہ گوگل کی حکمت عملی نہ صرف موجودہ دور کی امنگوں کی تکمیل ہے بلکہ ہم آنے والے کل پر بھی گہری نظر رکھنا ہے
ساڑھے 6 کروڑ سے زائد لوگوں ڈیٹا چوری ہو گیا کہیں آپ بھی ان میں شامل تو نہیں؟
آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس کے 6کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس انتظامیہ نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے 6 کروڑ 80 لاکھ صارفین کے ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈ چوری کرلیے گئے ہیں جنہیں ہیکرز نے انٹرنیٹ پر کھلے عام رکھ دیا ہے اور کوئی بھی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ڈراپ باکس کے مطابق یہ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز غالباً 2012ء میں چرائے گئے تھے لیکن انہیں 2 ہفتے پہلے ہی انٹرنیٹ پر عام کیا گیا ہے۔ کمپنی کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ان چوری شدہ پاس ورڈز اور ای میل ایڈریسز کے ذریعے کوئی غیرقانونی طور پر اس کے نیٹ ورک میں داخل ہوا بھی ہے یا نہیں۔ہیکنگ کی اس واردات کے بعد ڈراپ باکس نے معذرت کرتے ہوئے اپنے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈز جلد از جلد تبدیل کرلیں تاکہ کسی کو ان کے ڈراپ باکس اکاونٹ میں داخل ہونے اور ان کے حساس ڈیٹا تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔آن لائن ڈیٹا سٹوریج جسے ’’کلاویڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، صارفین کو انٹرنیٹ پر اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سہولیات وغیرہ پر مشتمل ہے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔
اخبار فروش کھرب پتی کیسے بنے ؟ ناقابل یقین داستان
گزشتہ روز آئی ٹی کی دنیا میں ایک ناقابل یقین ڈیل سائن کی گئی جس میں ڈیل کمپنی نے ایم سی نامی کمپنی کو 65 ارب ڈالر میں خرید کر ٹیکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل اپنے نام کر لی۔ ڈیل کمپنی کے مالک مائیکل ڈیل کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ ان کے ذاتی اثاثہ جات کی مالیت 20 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ مائیکل ڈیل کی کہانی انہی کی طرح قابل رشک ہے ۔
ڈیل نے اخبار بیچ کر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ بین الاقوامی جریدے بزنس انسائیڈ کی رپورٹ کے مطابق مائیکل ڈیل نے جس طرح کھرب پتی بننے کا سفر طے کیا وہ دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مائیکل ڈیل فروری 1965 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے مشہور شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوئے ۔ بچپن سے ہی انہیں ٹیکنالوجی ڈیوائسز سے انتہائی دلچسپی تھی انہوں نے 15 برس کی عمر میں پہلا ایپل کمپیوٹر خریدا اور اسے پرزے پرزے کر دیا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں ۔
ہائی سکول میں انہیں اخبارات کی سبسکرپشن فروخت کرنے کی ملازمت دی گئی اس میں بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور صرف ایک برس میں 18 ہزار ڈالر کمالئے ۔ ٹیکنالوجی میں انتہائی دلچسپی رکھنے کے باوجود انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی میں میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لے لیا اور فارغ اوقات میں کمپیوٹر اپ گریڈ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کرتے اور کمپیوٹر اپ گریڈ کر کے اپنے ساتھی طلباء میں فروخت کر دیتے جس سنے انہوں نے پہلے ہی ماہ میں 80 ہزار ڈالر کما لئے۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ سیلز کی بجائے صارفین کو براہ راست کمپیوٹر فروخت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے پی سیز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی جو کہ کمپیوٹرز کے تمام پارٹس کو اسمبل کرکے کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا کام کرتی تھی۔اس کمپنی نے پہلے سال ہی 60 لاکھ ڈالرز کمائے اور جلد ہی کمپیوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ 1987 میں کمپنی کا نام تبدیل کر کے ڈیل رکھ دیا گیا ۔ جس کے بعد اس کے حصص 1988 میں فروخت کے لئے منڈی میں پیش کئے گئے ۔ اس فروخت سے بھی مائیکل ڈیل کو 18 ملین ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔ 1992 میں انہیں 27 سال کی عمر میں ہی دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں کے کم عمر ترین سی ای او کا اعزا ز ملا۔ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے 2001 میں یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی بن چکی تھی۔2004 میں انہوں نے اپنی کمپنی کا کنٹرول چھوڑ کر سرپرست کی حیثیت اختیار کرلی تھی مگر 2007 میں جب ڈیل کے حصص کی قیمت گرنا شروع ہوئی تو وہ دوبارہ حرکت میں آکر سی ای او کا عہدہ سنبھالا اور زوال سے بچنے کے لیے نئی بڑی مارکیٹوں میں اپنی ڈیوائسز کے لیے کمپنیوں کی خریداری اور نئی پراڈکٹس کو پیش کرنا شروع کیا۔
گزشتہ سال انہوں نے 67 ارب ڈالرز کے عوض ای ایم سی کو خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا جس پر عملدرآمد رواں سال ستمبر میں مکمل ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی کا نام ڈیل ٹیکنالوجیز رکھ دیا ہے اور وہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی کے مالک ہیں، جس کی آمدنی 74 ارب ڈالرز ہیں، لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس میں کام کرتے ہیں، 25 جگہوں پر ڈیوائسز تیار ہورہی ہیں جبکہ اور بھی بہت کچھ ہے۔
ان کی شادی 1989 میں ہوئی ۔ ان کے چار بچے ہیں اور یہ خاندان 33 ہزار سکوئر فٹ رقبے پر پھیلے شاندار گھر میں رہتا ہے جسے مقامی افراد قلعہ بھی کہتے ہیں ۔ اس مکان کے قریب ہی ان 6380 اسکوائر فٹ بڑا رینچ ہاؤس بھی ہے جہاں اس خاندان کے عربی النسل گھوڑے رکھے گئے ہیں۔اس سے ہٹ کر بھی مائیکل ڈیل کیرئیبین جزائر میں ایک چار منزلہ پرتعیش گھر کے مالک بھی ہیں، جبکہ ہوائی میں بھی 73 ملین ڈالرز کا گھر ان کی ملکیت میں ہے جہاں وہ اپنی تعطیلات گزارتے ہیں، جبکہ مزید کروڑوں ڈالرز کی جائیدادوں میں بھی انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔متعدد مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے پاس کئی طیارے بھی ہیں۔مائیکل ڈیل بھی دیگر بڑی کمپنیوں کے مالکان کی طرح امارت کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش ہیں ۔ ان کی فلاحی تنظیم مائیکل اینڈ سوزن ڈیل فاؤنڈیشن امریکہ سمیت دنیا بھر میں بچوح کی فلاح بہبود کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ جس میں اب تک سوا ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جا چکی ہے ۔
ڈیل نے اخبار بیچ کر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ بین الاقوامی جریدے بزنس انسائیڈ کی رپورٹ کے مطابق مائیکل ڈیل نے جس طرح کھرب پتی بننے کا سفر طے کیا وہ دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مائیکل ڈیل فروری 1965 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے مشہور شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوئے ۔ بچپن سے ہی انہیں ٹیکنالوجی ڈیوائسز سے انتہائی دلچسپی تھی انہوں نے 15 برس کی عمر میں پہلا ایپل کمپیوٹر خریدا اور اسے پرزے پرزے کر دیا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں ۔
ہائی سکول میں انہیں اخبارات کی سبسکرپشن فروخت کرنے کی ملازمت دی گئی اس میں بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور صرف ایک برس میں 18 ہزار ڈالر کمالئے ۔ ٹیکنالوجی میں انتہائی دلچسپی رکھنے کے باوجود انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی میں میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لے لیا اور فارغ اوقات میں کمپیوٹر اپ گریڈ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کرتے اور کمپیوٹر اپ گریڈ کر کے اپنے ساتھی طلباء میں فروخت کر دیتے جس سنے انہوں نے پہلے ہی ماہ میں 80 ہزار ڈالر کما لئے۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ سیلز کی بجائے صارفین کو براہ راست کمپیوٹر فروخت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے پی سیز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی جو کہ کمپیوٹرز کے تمام پارٹس کو اسمبل کرکے کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا کام کرتی تھی۔اس کمپنی نے پہلے سال ہی 60 لاکھ ڈالرز کمائے اور جلد ہی کمپیوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ 1987 میں کمپنی کا نام تبدیل کر کے ڈیل رکھ دیا گیا ۔ جس کے بعد اس کے حصص 1988 میں فروخت کے لئے منڈی میں پیش کئے گئے ۔ اس فروخت سے بھی مائیکل ڈیل کو 18 ملین ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔ 1992 میں انہیں 27 سال کی عمر میں ہی دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں کے کم عمر ترین سی ای او کا اعزا ز ملا۔ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے 2001 میں یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی بن چکی تھی۔2004 میں انہوں نے اپنی کمپنی کا کنٹرول چھوڑ کر سرپرست کی حیثیت اختیار کرلی تھی مگر 2007 میں جب ڈیل کے حصص کی قیمت گرنا شروع ہوئی تو وہ دوبارہ حرکت میں آکر سی ای او کا عہدہ سنبھالا اور زوال سے بچنے کے لیے نئی بڑی مارکیٹوں میں اپنی ڈیوائسز کے لیے کمپنیوں کی خریداری اور نئی پراڈکٹس کو پیش کرنا شروع کیا۔
گزشتہ سال انہوں نے 67 ارب ڈالرز کے عوض ای ایم سی کو خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا جس پر عملدرآمد رواں سال ستمبر میں مکمل ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی کا نام ڈیل ٹیکنالوجیز رکھ دیا ہے اور وہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی کے مالک ہیں، جس کی آمدنی 74 ارب ڈالرز ہیں، لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس میں کام کرتے ہیں، 25 جگہوں پر ڈیوائسز تیار ہورہی ہیں جبکہ اور بھی بہت کچھ ہے۔
ان کی شادی 1989 میں ہوئی ۔ ان کے چار بچے ہیں اور یہ خاندان 33 ہزار سکوئر فٹ رقبے پر پھیلے شاندار گھر میں رہتا ہے جسے مقامی افراد قلعہ بھی کہتے ہیں ۔ اس مکان کے قریب ہی ان 6380 اسکوائر فٹ بڑا رینچ ہاؤس بھی ہے جہاں اس خاندان کے عربی النسل گھوڑے رکھے گئے ہیں۔اس سے ہٹ کر بھی مائیکل ڈیل کیرئیبین جزائر میں ایک چار منزلہ پرتعیش گھر کے مالک بھی ہیں، جبکہ ہوائی میں بھی 73 ملین ڈالرز کا گھر ان کی ملکیت میں ہے جہاں وہ اپنی تعطیلات گزارتے ہیں، جبکہ مزید کروڑوں ڈالرز کی جائیدادوں میں بھی انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔متعدد مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے پاس کئی طیارے بھی ہیں۔مائیکل ڈیل بھی دیگر بڑی کمپنیوں کے مالکان کی طرح امارت کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش ہیں ۔ ان کی فلاحی تنظیم مائیکل اینڈ سوزن ڈیل فاؤنڈیشن امریکہ سمیت دنیا بھر میں بچوح کی فلاح بہبود کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ جس میں اب تک سوا ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جا چکی ہے ۔
چین ایک دفعہ پھر دنیا پر بازی لے گیا, اس اہم کام میں تیسرے نمبر پر آگیا ، امریکہ پریشان
بیجنگ (آئی این پی ) چین پہلی سکائی ٹرین تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ، یہ ٹرین چین کے شہر نانجنگ میں تیار کی گئی ہے اس طرح چین جرمنی اورجاپان کے بعد سکائی ٹرین ٹیکنالوجی میں داخل ہونیوالا تیسرا ملک بن گیا ہے ، نانجنگ پوزن کمپنی لمٹیڈ جو کہ چین کی سب سے بڑی کمپنی رولنگ سٹاک تیار کرنیوالی ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن سے منسلک ہے نے صرف چار ماہ کی مختصر مدت میں اس کا ڈیزائن تیار کر کے ریلوے ٹرین مکمل کر لی ہے ، ریل گاڑی کے دو ڈبوں میں 200سے زیادہ مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ سب ویز اور ٹرام کے مقابلے میں سکائی ٹرین سستی ہے
یہ اونچائی پر چڑھائی چڑھنے تیز ہوائوں کا مقابلہ کرنے اور موڑ کاٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ، یہ ٹرین بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہے اور ایک بار چارج ہونے کے بعد چار گھنٹے کا سفر کر سکتی ہے تاہم کسی بھی سٹیشن پر صرف دو منٹ میں بیٹریاں چارج کی جا سکتی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین دوردراز اور پسماندہ علاقوں اور سیاحتی مقامات تک جانے کے لئے بہت اچھا انتخاب ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ امریکی معشیت کیلئے ایک پریشانی کی خبر ہےاور اوباما انتظامیہ کو اس بارے میں مزید اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہ اونچائی پر چڑھائی چڑھنے تیز ہوائوں کا مقابلہ کرنے اور موڑ کاٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ، یہ ٹرین بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہے اور ایک بار چارج ہونے کے بعد چار گھنٹے کا سفر کر سکتی ہے تاہم کسی بھی سٹیشن پر صرف دو منٹ میں بیٹریاں چارج کی جا سکتی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین دوردراز اور پسماندہ علاقوں اور سیاحتی مقامات تک جانے کے لئے بہت اچھا انتخاب ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ امریکی معشیت کیلئے ایک پریشانی کی خبر ہےاور اوباما انتظامیہ کو اس بارے میں مزید اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے ۔
Tuesday, September 6, 2016
دنیا کا محفوظ ترین ملک کون سا ہے؟ ایسا نام سامنے آگیا کہ آپ چونکے بغیر رہ نہیں پائیں گے
دنیا کے محفوظ ترین ملکوں کی نئی فہرست جاری کری گئی ہے جس کے مطابق دنیا بھرکے 171ممالک میں مالٹا کا پہلا ،مصر کادوسراسعودی عرب کا تیسرانمبر ہے جبکہ امریکا 116ویں نمبر پر ہے ،امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ٹیک پارٹ‘‘ کے مطابق محققین نے دنیا کے 171 ریاستوں میں قدرتی آفات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ مطالعہ جاری کیا ہے۔ منصوبے کے ڈائریکٹر پیٹر میوک کا کہنا تھا کہ مطالعے میں ماحول اور قدرتی اور انسانی زاویوں سے متعلق تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ان میں انفرا اسٹرکچر، شہریوں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی اور کسی خاص آفت کا سامنا کرنے کی صورت میں تیزی کے ساتھ امداد کی تقسیم کی قدرت شامل ہیں۔قوام متحدہ کے انسٹییوٹ فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیومن سیکیورٹی کی اس فہرست میں دنیا کا محفوwظ ترین ملک مالٹا کو قرار دیا گیا ہے، اس فہرست میں مصر دوسرے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے کی فہرست میں لائبریا کو 56ویں، زمبیا کو 66ویں اور وسطی افریقہ کو 71ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔امریکہ محفوظ ممالک کی فہرست میں 116ویں نمبر پر ہے۔یونیورسٹی رپورٹ کے مطابق ونواتو،ٹونگا،فلپائن،گوئٹے مالااوربنگلادیش خطرناک ممالک میں شامل ہیں۔خطرناک ترین پندرہ ممالک میں سے تیرہ براعظم افریقہ میں واقع ہیں، اس ممالک میں قدرتی آفات بعد بحالی کے اقدامات کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔سیلابوں زد میں رہنے والے آسٹریلیااور زلزلوں کے مرکز جاپان کوکو اس فہرست میں مشترکہ طور پر ایک سواکیس واں نمبر ملاہے۔
دنیا کا پہلا سرچ انجن متعارف ۔۔۔۔ آپ اس پر انتہائی آسانی کیساتھ کیا سر چ کرسکتے ہیں ؟ ’’ برطانوی اخبار دی گارجین ‘‘ کی زبردست رپورٹ
آجکل کے دور میں جب پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے تو نت نئی اور زبردست ایجادات نے دنیا کو ایک گائوں کی جگہ اب ایک محلے جیسا بنا دیاہے ۔جہاں پوری دنیا اب ہمیں ہماری مٹھی میں محسوس ہوتی ہے ۔ پہلے ادوار میں جب کسی کو کوئی جواب چاہئے ہوتا تھا تو لوگ دانا لوگوں اور حکما کے پاس جاتے مگر آج جب کسی کو کوئی بھی جواب چاہئے ہو تو ذہن ،میں جو پہلا خیال آتا ہے وہ ہے گوگل، جس پر شاید دنیا کا ہر جواب موجود ہوگا ۔ مگر فلمی دنیا میں کھوئے رہنے والوں کیلئے ایک زبردست خوشخبری ہے جس کے مطابق فن لینڈ کی ایک ٹیکنالوجی ٹیم نے ایک ویب سائٹ تیار کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ’’دنیا کا پہلا تفصیلی مووی سرچ انجن‘‘ ہے اور اس کے ذریعے ہم ایسی فلمز بھی دیکھ سکتے ہیں، جن کا نام ہمیں یاد نہیں رہتا۔ برطانوی اخبار، ’’دی گارجین‘‘ کےمطابق،فن لینڈ کی یونیورسٹی آف اولو سے وابستہ ’’والوسا‘‘ نامی گروپ کو whatismymovie.com نامی ویب سائٹ کی تیاری کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھاری مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔ اس تفصیلی مووی سرچ انجن کے ذریعے طویل ترین الفاظ اور آواز کے ذریعے موویز تلاش کی جا سکتی ہیں۔اس ویب سائٹ کی تیاری میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے کہ جس کی مدد سے آپ جگہ، اشیا اور افراد وغیرہ جیسے ہزاروں تصوارات کی مدد سے رئیل ٹائم ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔
عوام کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ۔۔ 7ستمبر کو متعارف کرائے جانے والے آئی فون کے زبردست فیچرز کیسے ہونگے ؟ تفصیلات منظر عام پر
ٹیکنالوجی کی دنیا کے سپر سٹار ایپل کا نیا موبائل فون 7ستمبر کو سان فرانسسکو میں متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ موبائل فون خصوصی فیچرز کا حامل ہوگا۔کہا جارہا ہے کہ پہلی بار ایپل کی جانب سے تین آئی فونز کو پیش کیا جاسکتا ہے تاہم ایسی رپورٹس بھی ہیں کہ اس بار بھی دو آئی فونز ہی متعارف ہوں گے، ایک 4.7 انچ اسکرین کے ساتھ جبکہ دوسرا 5.5 انچ اسکرین کا ہوگا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ نئے فون کا ڈیزائن گزشتہ سال کے آئی فون سکس اور سکس ایس جیسا ہی ہوگا۔ ایپل کی جانب سے اس بار کئی نئے رنگ بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جن میں ڈیپ بلیو اور اسپیس بلیک قابل ذکر ہیں، جبکہ پہلی بار بیسک ماڈل 16 کی بجائے 32 جی بی اسٹوریج سے شروع ہوسکتا ہے۔ ایسے بھی سننے میں آیا ہے کہ آئی فون کے بڑے ورژن یعنی پلس یا پرو میں دو لینسز والا کیمرہ ہوسکتا ہے۔ تاہم چھوٹی اسکرین والے آئی فون میں بھی پہلے سے بہتر کیمرہ پیش کیا جائے گا، جس کا لینس پہلے سے بڑا ہوگا۔
اس موبائل فون میں بڑی تبدیلی ہیڈ فون جیک کو ختم کرنا ہے اور ایپل کی جانب سے ممکنہ طور پر اس جگہ کو ایک اضافہ اسپیکر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اس ڈیوائس پر موسیقی سننا چاہیں تو تو بلیو ٹوتھ ہیڈ فونز استعمال کرنے پڑیں گے۔ ہوم بٹن بھی ری ڈیزائن ہونے کا امکان ہے تاہم اس میں تھری ڈی ٹچ کی ٹیکنالوجی موجود رہے گی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئے آئی فون میں پہلے سے طاقتور چپ موجود ہوگی یعنی اے 10۔ انٹیل کی جانب سے بھی آئی فون سیون کے لیے ایک چپ فراہم کی جائے گی جو ایک موڈیم ہوگا تاکہ اسے وائرلیس ایل ٹی ای نیٹ ورکس پر استعمال کیا جاسکے۔ اور ہاں نئے آئی فون کی بیٹری پہلے سے طاقتور ہوگی یعنی پہلے سے بہتر بیٹری لائف۔ ایسے بھی امکانات ہیں کہ نیا آئی فون واٹر ریزیزٹنٹ ہوگا۔
اس موبائل فون میں بڑی تبدیلی ہیڈ فون جیک کو ختم کرنا ہے اور ایپل کی جانب سے ممکنہ طور پر اس جگہ کو ایک اضافہ اسپیکر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اس ڈیوائس پر موسیقی سننا چاہیں تو تو بلیو ٹوتھ ہیڈ فونز استعمال کرنے پڑیں گے۔ ہوم بٹن بھی ری ڈیزائن ہونے کا امکان ہے تاہم اس میں تھری ڈی ٹچ کی ٹیکنالوجی موجود رہے گی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئے آئی فون میں پہلے سے طاقتور چپ موجود ہوگی یعنی اے 10۔ انٹیل کی جانب سے بھی آئی فون سیون کے لیے ایک چپ فراہم کی جائے گی جو ایک موڈیم ہوگا تاکہ اسے وائرلیس ایل ٹی ای نیٹ ورکس پر استعمال کیا جاسکے۔ اور ہاں نئے آئی فون کی بیٹری پہلے سے طاقتور ہوگی یعنی پہلے سے بہتر بیٹری لائف۔ ایسے بھی امکانات ہیں کہ نیا آئی فون واٹر ریزیزٹنٹ ہوگا۔
Tuesday, August 30, 2016
اب فیس بک اور واٹس ایپ ایک بڑی تبدیلی کرنے جا رہے ہیں
دنیا جوں جوں آگے بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت آتی جا رہی ہے ۔ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ واٹس ایپ میں متنازع نئی شرائط یعنی ڈیٹا فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ صارفین کو اشتہارات دکھانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کے ساتھ واٹس ایپ بلاگ میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا جو متنازع شرائط کے باعث دب گیا۔واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات اسپام نہیں ہوں گے بلکہ کاروباری ادارے لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں گے،اس سے قبل گزشتہ روز واٹس ایپ نے ایک بہت بڑی تبدیلی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہ اپنے صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرسکے گی۔جیسا آپ کو معلوم ہے کہ واٹس ایپ فیس بک نے 2014 میں خرید لی تھی تاہم اب تک اس کے صارفین اپنی معلومات یا چیزیں فیس بک پر شیئر نہیں کرسکتے تھے۔جنوری میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فیس بک اور واٹس ایپ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے حوالے سے کام ہورہا ہے اور اب آپ پسند کریں یا نہ کریں مگر اس کا اطلاق شروع ہوگیا ہے۔پرائیویسی ایڈووکیٹس نے دنیا کی دو مقبول ترین سوشل نیٹ ورکس کے درمیان ڈیٹا کی شیئرنگ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کو شیئر کرنے آئندہ چند ماہ میں متعارف کرائے جانے والے نئے فیچرز کی آزمائش کے لیے ضروری ہے جس کے تحت اب میسنجر کے صارفین کو اشتہارات کا سامنا بھی ہوگا۔اس حوالے سے واٹس ایپ اپنی شرائط میں اب فون نمبر، پروفائل نام اور تصویر، آن لائن اسٹیٹس، اسٹیٹس میسج، لاسٹ سین اسٹیٹس اور ریسپٹس وغیرہ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرنے کو شامل کرنے والی ہے۔تاہم واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ صارفین کے دوستوں سے پیغامات اور ان میں موجود مواد وغیرہ کو شیئر ہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے جسے فیس بک نے کچھ سال پہلے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تھا مگر مارک زکربرگ کو اب تک اس سے کوئی آمدنی نہیں ہورہی۔ویسے تو واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا کسی حکومت کو بھی فراہم نہیں کرتی یا رسائی نہیں دیتی مگر اس تبدیلی کے بعد خدشہ ہے کہ حکومتوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم نہ کیا جانے لگے۔
واٹس ایپ نے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے دو آپشنز بھی دیئے ہیں۔
جب آپ کو نئی ٹرمز آف سروسز کا نوٹیفکیشن موصول ہو تو سب سے پہلے ‘ریڈ’ کے بٹن پر کلک کرکے مکمل دستاویز کا جائزہ لیں اور نیچے اسکرول کریں جہاں ایک چیک باکس نظر آئے جس کے نیچے لکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کی انفارمیشن فیس بک کے ساتھ شیئر کریں، اسے ان چیک کرکے ایگری پر کلک کریں۔
واٹس ایپ نے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے دو آپشنز بھی دیئے ہیں۔
جب آپ کو نئی ٹرمز آف سروسز کا نوٹیفکیشن موصول ہو تو سب سے پہلے ‘ریڈ’ کے بٹن پر کلک کرکے مکمل دستاویز کا جائزہ لیں اور نیچے اسکرول کریں جہاں ایک چیک باکس نظر آئے جس کے نیچے لکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کی انفارمیشن فیس بک کے ساتھ شیئر کریں، اسے ان چیک کرکے ایگری پر کلک کریں۔
کوئی بھی یو ایس بی اپنے سسٹم پر لگانے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں
دنیا جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے اور ٹیکنالوجی ہر آنے والے لمحے میں اپنے اندر وسعت لاتی جا رہی ہے ۔ تو ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ اپنے سسٹم میں کوئی بھی نئی یو ایس بی لگانے سے پہلے یہ احتیاط کریں کہ وہ آپ کے سسٹم کیلئے محفوظ ہے کہ نہیں۔ چونکہ مارکیٹ میں ایک ایسی ڈیوائس فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہے جو آپ کے سسٹم پر لگتے ہی اسے ناکارہ بنا سکتی ہے ۔اکتوبر 2015 میں ‘یو ایس بی کِلر’ نامی ڈیوائس کا نمونہ پیش کیا گیا تھا جو بجلی کی لہر کی مدد سے کسی بھی ڈیوائس کو جلا سکتی تھی، اْس وقت تو یہ صرف ایک تصور تھا مگر اب اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی ہے۔یو ایس بی کِلر ویب پیج کے مطابق ‘یہ ایک آزمائشی ڈیوائس ہے جو ہر سیکیورٹی آڈیٹر اور ہارڈوئیر ڈیزائنر کے اسلحہ خانے میں ہونی چاہیئے’۔یہ کمپنی ‘یو ایس بی ٹیسٹ شیلڈ’ بھی فروخت کررہی ہے جو ‘یو ایس بی کلر’ کے تباہ کن بجلی کے جھٹکے سے ڈیوائس کو بچانے کا کام کرتی ہے۔ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ یو ایس بی لگائے جانے پر 95 فیصد ڈیوائسز کو تباہ کردیتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ مذاق کے لیے اس کا استعمال کیسے روکا جائے گا۔پہلے کہا جارہا تھا کہ اس یو ایس بی کو ایک روسی ہیکر ڈارک پرپل نے تیار کیا ہے مگر اب ویب سائٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ اسے تیار کرنے والا کون ہے تاہم یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ اس کمپنی کا مرکز ہانگ کانگ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیکیورٹی مسائل کمپنیوں کو ہارڈوئیر کے بہتر تحفظ کے لیے تیار کریں گے۔اور ہاں اگرچہ 95 فیصد ہارڈوئیر اس یو ایس بی کا شکار بن سکتے ہیں مگر ان میں ایپل شامل نہیں۔اس کی قیمت 56 ڈالرز رکھی گئی ہے جبکہ ٹیسٹ شیلڈ 16 ڈالرز کی ہے۔
خلائی مخلوق بارے امریکی حکومت کیا جانتی ہے ؟
دنیا میں بہت سی تخلیقات اور راز ایسے ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے اور انہیں میں سے ایک خلائی مخلوق بھی ہے ۔کوئی اسے سچ مانتا ہے اور کوئی اسے جھوٹ تاہم امریکہ میں خلائی مخلوق کے متلاشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت جانتی ہے کہ دوسرے سیاروں سے خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ رکھی گئی اہم دستاویزات عنقریب منظر عام پر آنے والی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق خلائی مخلوق کے وجود پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 1947ء میں پیش آنے والے بدنام زمانہ واقعے ’’روزویل ‘‘میں خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری جانوروں کے ایک باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی لیکن امریکی حکومت اس واقعے کے شواہد بھی منظرعام پر نہیں لائی۔ اس وقت امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑے میں گرنے والی طشتری دراصل موسمی صورتحال بتانے والا غبارہ تھا، مگر کئی سال بعد معلوم ہوا کہ دراصل یہ ایک جاسوس طیارہ تھا جو ایٹمی خطرے کی نشاندہی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور گر کر تباہ ہو گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ تو موسمی غبارہ تھااور نہ ہی جاسوس طیارہ۔ وہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی جو زمین پر اترنے کے دوران اس باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اپالو 14کے خلانورد ایڈگر مشعیل، جو رواں برس فروری میں انتقال کر چکے ہیں، نے واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت نے اس حوالے سے ایک پورا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا کہ عوام کو یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ خلائی مخلوق انسانوں کی دشمن ہے اور آیا ہم اپنے آپ کو ان سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔ حکومت یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ سوویت یونین کو اس معاملے سے آگاہی ہو۔ اس پر پردہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ‘‘ کینیڈا کے ایک سابق وزیردفاع پاؤل ہیلیئر نے بھی دعویٰ کررکھا ہے کہ ’’خلائی مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ایسے کئی شواہد دیکھ رکھے ہیں جن سے خلائی مخلوق کی زمین پر آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ میں پوری یکسوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خلائی مخلوق کو دیکھ رکھا ہے یا جو لوگ خلائی مخلوق کے متعلق امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو لوگ 1947ء کے روزویل کے واقعے میں تباہ ہونے والی اڑن طشتری کا ملبہ دیکھنے کے داعی ہیں وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ واقعی خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی۔بحر حال کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔
Monday, August 29, 2016
کیا آپ کو معلوم ہے یوٹیوب کیوں شروع کی گئی ؟
سان فرانسسکو: دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور ویڈیو ویب سائٹ یوٹیوب کی بنیاد تین دوستوں چیڈ ہرلی، سٹیو چین اور جاوید کریم نے رکھی اور اگرچہ ہم سب اس ویب سائٹ کے مداح ہیں مگر ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان دوستوں کے ذہن میں اس قدر اچھوتا آئیڈیا کیسے آیا۔ یہ تینوں دوست پے پیل نامی کمپنی کے ملازم تھے۔ چیڈ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے طالب علم تھے جبکہ چین اور کریم یونیورسٹی اور الینائے کے طالبعلم ایک مشہور کہانی کے مطابق چین کے اپارٹمنٹ پر ایک ڈنر پارٹی منعقد کی گئی جس میں کریم شریک نہیں تھا اور اس نے یہ ماننے سے انکار کردیا اور اس کے دوستوں نے پارٹی منعقد کی تھی۔ کہانی کے مطابق ان دوستوں کو اس بات کا پچھتاوا ہوا کہ اگر انہوں نے ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی ہوتی تو وہ فوری طور پر کریم کو دکھا سکتے تھے۔ اگرچہ اسے یوٹیوب قائم کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے لیکن اصل میں یہ کہانی درست نہیں ہے۔کریم کا کہنا ہے کہ اصل کہانی یہ ہے کہ وہ 2004ءمیں سپر باﺅل ٹی وی شو میں جینٹ جیکسن کے کردار کی ویڈیو کہیں سے حاصل نہیں کرپارہے تھے اور اسی طرح جب انہیں 2004ءمیں آنے والے سونامی کی ویڈیوز بھی دستیاب نہیں ہورہی تھیں تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویب سائٹ کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا کہ جہاں پر لوگ اپنی بنائی گئی ویڈیوز شیئر کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدائی آئیڈیا ہاٹ آر ناٹ ویب سائٹ سے لیا اور پھر 2005ءمیں یوٹیوب کی بنیاد رکھ دی۔ اس کا پہلا دفتر ریاست کیلیفورنیا کے علاقہ سیم ماتیو میں ایک جاپانی پیزا ریسٹورنٹ کی بالائی منزل پر واقعہ تھا۔ یوٹیوب ڈومین نیم کو فروری 2005ءمیں ایکٹیویٹ کیا گیا۔ پہلی یوٹیوب ویڈیو کا عنوان “Me at the zoo” تھا اور یہ جاوید کریم نے سین ڈیاگو چڑیا گھر میں بنائی تھی۔ یہ ویڈیو آج بھی یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔
Sunday, August 28, 2016
عبدالستا ر ایدھی پر فلم بنائی جا رہی ہے جس میں انڈین معروف اداکار کام کریں گے۔
فلم پروڈیوسر حامد سلمان عبدالستار ایدھی پر فلم بنائیں گے جس کا کردار نصیر الدین شاہ کرینگے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی مرحوم نے امن ، محبت ، انسانیت اور بھائی چارے کے ذریعے عالمی سطح پر ملک وقوم کا نام روشن کیا۔ یہ فلم ان کو خراج عقید ت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ فلم ’’ آئی ایم ایدھی‘‘ کے نام سے بنائی جائیگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو ایسی ہی معیاری فلموں کی ضرورت ہے جس کے لیے ذریعے ہم اپنے ہیروز کو ٹریبوٹ دینے کیساتھ ایم ایشو کو پردہ اسکرین پر لاسکتے ہیں۔ فلم کی آمدن کا دس فیصد ایدھی فاونڈیشن کو دیا جائے گا، اس موقع پر ان کے ساتھ فلم کے رائٹر محمد عمر، ملک زاہد مصطفی، عطا شاہکار، اسد اللہ شاہ اورخدیجہ بھی موجود تھیں
گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا
گوگل نے اپنا تازہ ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ ریلیز کردیا ہے جس میں ایسے کئی فیچرز ہیں جو اس سے پہلے کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں موجود نہیں تھے۔ ’’اینڈروئیڈ 7 نوگاٹ‘‘ کوخاص طور پر گوگل کے نئے ’’نیکسس‘‘ موبائل فونز اور ٹیبلٹس کےلئے بنایا گیا ہے۔ یہ اتنا جدید ہے کہ بیشتر موجودہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے لیکن مستقبل میں گوگل کو اس سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ مختلف چھوٹی بڑی اسمارٹ فون کمپنیاں اس موبائل آپریٹنگ سسٹم کی طرف بتدریج متوجہ ہوں گی اور چند سال میں یہ اینڈروئیڈ کی دنیا میں چھا جائے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ نوگاٹ اگرچہ موجودہ اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹمز کے مقابلے میں کچھ خاص مختلف نہیں لیکن اپنے فیچرز کے اعتبار سے یہ واقعی بے حد غیرمعمولی ہے۔ اس کے کچھ دلچسپ فیچرز ملاحظہ کیجئے: اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹمز کی زبان میں اسکرین پر ایک وقت میں ایک سے زیادہ ایپلی کیشن ونڈوز کھولنے کا عمل ’’ملٹی ٹاسکنگ‘‘ کہلاتا ہے جو ابھی تک کسی موبائل آپریٹنگ سسٹم میں دستیاب نہیں تھا۔ لیکن نوگاٹ میں ’’اسپلٹ اسکرین‘‘ فیچر کو آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے تحت آپ نہ صرف اسمارٹ فون اسکرین پر ایک سے زیادہ ایپس دیکھ سکیں گے بلکہ اپنی سہولت کے حساب سے ایپ ونڈوز کو چھوٹا بڑا بھی کرسکیں گے۔ اس فیچر کی سپورٹ فی الحال بیشتر ایپس میں موجود نہیں لیکن امید ہے کہ آئندہ ورژنز میں یہ دستیاب ہوگی۔ فوری جواب اس نئے فیچر کی مدد سے نوگاٹ استعمال کرنے والے صارفین کسی بھی ای میل یا ایس ایم ایس کا جواب کوئی ایپ کھولے بغیر ہی، اینڈروئیڈ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر ٹائپ کرکے دے سکیں گے۔ یہ فیچر بطورِ خاص وقت بچانے کےلئے متعارف کروایا جارہا ہے۔ ایموجیز صارفین کی دلچسپی کےلئے نوگاٹ میں 72 ایموجیز پر مشتمل ایک نیا سیٹ بھی متعارف کروایا گیا ہے جس میں مختلف جانوروں کی شکلیں بطورِ خاص قابلِ توجہ ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مزید ایموجیز شامل کرنے کےلئے یونی کوڈ کنسورشیم سے اس کے مذاکرات جاری ہیں جن کی تکمیل کچھ وقت لگ جائے گا۔ نوٹی فکیشن خاموش کیجئے نوگاٹ کے نوٹی فکیشن شیڈ میں جاکر آپ بار بار نوٹی فکیشن دے کر پریشان کرنے والی ایپس کو خاموش کرسکتے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے آپ نہ صرف کسی ایپ کے نوٹی فکیشنز کو خاموش کرسکتے ہیں بلکہ اسے نظروں سے اوجھل بھی کرسکتے ہیں۔ شارٹ کٹس نوگاٹ کے نوٹی فکیشن ایریا میں شارٹ کٹس بھی ہیں جنہیں آپ اپنی سہولت اور استعمال کے اعتبار سے کسٹمائز کرسکتے ہیں اور وائی فائی، بلیو ٹوتھ، ایئرپلین موڈ اور فلیش لائٹ وغیرہ تک فوری رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈیٹا سیور اسمارٹ فونز کا دیرینہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان میں موجود ایپس استعمال نہ ہورہی ہوں تب بھی وہ مسلسل ڈیٹا بھیجتی اور وصول کرتی رہتی ہیں اور ڈیٹا کے اس تبادلے کے اخراجات صارف کو اپنی جیب سے بھرنے پڑتے ہیں۔ نوگاٹ میں اس مسئلے کا حل ’’ڈیٹا سیور‘‘ فیچر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ ایپس کو پابند بناسکتے ہیں کہ وہ استعمال نہ ہونے کی صورت میں ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے سے بھی باز رہیں۔ یہ فیچر پاکستان جیسے ممالک میں متوسط طبقے کےلئے بے حد مفید ہے۔ بیٹری کو زیادہ دیر تک چلائے اینڈروئیڈ مارش میلو میں بیٹری بچانے کےلئے ’’ڈوز‘‘ کے نام سے جو فیچر متعارف کروایا گیا تھا، نوگاٹ میں اسے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کے اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کی اسکرین آف ہو اور وہ چارج بھی نہ ہورہا ہو تو بیٹری بچانے کی غرض سے ڈوز تمام بیک گراؤنڈ ایپس کو کم سے کم ممکنہ ایکٹیویٹی پر لے آتا ہے۔ اس صورت میں صرف اور صرف فون کالز اور میسجز ہی ریسیو کئے جاسکتے ہیں اور الارم ہی کام کرسکتا ہے۔ نوگاٹ میں یہ فیچر موبائل فون کے جیب یا پرس میں رکھتے ہی خود بخود آن ہوجاتا ہے۔ سب کچھ صاف موبائل پر چلتی ہوئی تمام ایپس کو ایک ساتھ بند کرنے کےلئے اس کے ہر فن مولا، چوکور بٹن کے ساتھ نیا ’’کلیئر آل‘‘ کا فیچر شامل کردیا گیا ہے۔ اس سے بیٹری کی بچت میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن گوگل کا کہنا ہے کہ اس سے کچھ ایپس کو نئے سرے سے اسٹارٹ کرنے میں بڑی سہولت ہوجائے گی۔ جان بچانے والی معلومات کچھ معلومات آپ کی صحت اور تندرستی کےلئے بہت ضروری ہوتی ہیں جیسے کہ خون کا گروپ، الرجی، دوائیں، ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے نمبر، آپ کا نام اور عمر وغیرہ۔ ان تمام کو علیحدہ سے محفوظ کرنے کےلئے نوگاٹ میں ایک نئے بلٹ ان فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ آپشن تک شامل ہے کہ حادثے کی صورت میں آپ کے خصوصی رابطہ افراد آپ کے فون کا مقام معلوم کرکے فوری مدد کا بندوبست بھی کرسکتے ہیں۔ آپ کی جان بچانے والی تمام معلومات اس طرح سے محفوظ ہوتی ہیں کہ فون لاک ہونے کی صورت میں بھی اسکرین پر موجود ’’ایمرجنسی‘‘ بٹن کے ذریعے یہ تمام معلومات فوری دیکھی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، فون ان لاک کئے بغیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فوری کال کی جاسکتی ہے۔
Friday, August 26, 2016
گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں
گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے نمائندے ڈیزائننگ اور ویب ڈویلپمنٹ میں دلچسپی رکھنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیز کا دورہ کر رہی ہے۔
اپنے 11 روزے کے دوران گوگل کے نمائندے پاکستان کی نو یونیورسٹیوں میں جائیں گے۔
گوگل نے پاکستان آنے کے لیے اپنا جو شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ 30 اگست کو انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے اپنا دورہ شروع کریں گے اور یہ عمل نو ستمبر کو یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے دورے پر ختم ہو گا۔
اس دوران یہ ٹیم کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز، ٹوپی ضلع صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور لاہور میں لمز اور یو ای ٹی کے علاوہ یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کا دورہ کرے گی۔
گوگل کے نمائندوں کے دورۂ پاکستان کا مقصد چھوٹے ڈویلپرز، ڈیزائنرز اور بلاگرز کے کام کی حوصلہ افزائی کے علاوہ انھیں ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے پیسہ کمانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر گوگل کی نئی منصوعات گوگل ایڈ سینس اور گوگل ایڈ موب کو بھی متعارف کروایا جائے گا۔
گوگل کا یہ ایونٹ ویب ڈیزائینگ اور ایپ ڈویلمپنٹ میں اپنا کریئر شروع کرنے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے مدد گار ثابت ہو گا۔
Monday, August 22, 2016
لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
یونیورسٹی آف برکلے کیلیفورنیا کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق لپ سٹک کا استعمال آپ کے چہرے کی چمک تو بڑھا سکتا ہے لیکن یہ آپ کے باقی جسم کے لئے اچھا نہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہو ں نے لپ سٹک کے 32مشہور برینڈز کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان میں لیڈ، کاڈ میم، کرومیم، اور ایلومینیم کے علاوہ پانچ دیگر دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں۔اس تحقیق کی مصنفہ کیتھرین ہمند کا کہنا ہے کہ ان دھاتوں کی موجودگی سے بھی اہم ان کی مقدار ہے، ان کے مطابق چند مہلک دھاتوں کی مقدار اس قدر زیادہ پائی گئی کہ وہ کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جو لپ سٹک کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں، مزید یہ کہ معمول کا استعمال کرنے والوں کو بھی کرومیمکے باعث پیٹ کے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔مصنفہ کے مطابق اس تحقیق کے باعث بہت گھبرانا نہیں چاہئے لیکن جو خواتین دن میں کئی مرتبہ لپ سٹک کا استعمال کرتی ہیں انہیں اس بارے میں سوچنا ضرور چاہئے، انہوں نے امریکی حکومت سے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔
اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔
اسلام آباد(ما نیٹرنگ ڈیسک ) کیا آپ کو فیس بک پر انگلش میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ لکھنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے ؟ اگر ہاں تو اب کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ ہی آپ کی مدد کرے گی۔جی ہاں فیس بک نے خودکار ترجمہ کرنے والا فیچر متعارف کرادیا ہے جو مختلف زبانوں میں آپ کی پوسٹس کو شائع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ملٹی لینگویج کمپوزر نامی اس فیچر کے ذریعے آپ کسی ایک زبان میں اپنی پوسٹ کو لکھیں اور پھر اپنی پسند کی دیگر زبانوں کا انتخاب کرلیں جن میں شائع کرنا چاہتے ہیں اور پبلش کردیں۔مثال کے طور پر اگر آپ انگلش میں کچھ لکھتے ہیں اور ہسپانوی زبان میں پبلش کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیا کمپوزر آپ کی مدد کرے گا۔ابھی اس ٹول میں 45 زبانیں موجود ہیں اور فیس بک کا کہنا ہے کہ جلد ان میں اضافہ کیا جائے گا۔اس فیچر کو استعمال میں لانے کے لیے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جاکر post in multiple languages پر کلک کریں۔
اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے
اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے
آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اہرام مصر دنیا کے عجوبوں میں شامل ہیں اور قدیم ترین اہرام ہیں لیکن اب ماہرین نے ان سے بھی زیادہ قدیم ایک اہرام دریافت کر لیا اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ ہرم مصر نہیں بلکہ قازقستان میں دریافت کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا ہرم قازقستان کے شہر کاراگنڈا کے قریب سرے ارکا کے (Sary Arka)علاقے میں دریافت ہوا ہے اور یہ 3ہزار سال قدیم ہے۔ اگرچہ یہ ہرم اب انتہائی خستہ حالت میں ملا ہے تاہم طرز تعمیر میں یہ اہرام مصر کے بالکل مشابہہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دریافت کاراگنڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کے سربراہ وکٹر نوفزینوف کا کہنا ہے کہ ”اس ہرم کی عمارت کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 3ہزار سال سے بھی قبل مقامی بادشاہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاحال ہم نے اس ہرم کے اندر کی صورتحال معلوم نہیں کی لیکن رواں ہفتے ہی ہم اس کے اندر داخل ہوں گے۔ اس کے اندرسے ہمیں جو کچھ بھی ملے وہ ہم کاراگنڈا آرکائیولوجیکل میوزیم میں رکھیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان قدیم اشیاءکو دیکھ سکیں۔“
Sunday, August 21, 2016
کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا
کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا
نئی دلی (نیوز ڈیسک) جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکاہے، یہاں تک کہ بے وفا شریک حیات کو پکڑنے کے لئے بھی لوگوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، مگر اس کا نتیجہ بہت صدمہ خیز بھی ہو سکتا ہے۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بنگلور شہر سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کو گزشتہ سال فروری سے اپنی بیوی کے کردار پر شک تھا مگر کوئی ثبوت نہ مل رہا تھا۔ اسے کئی شواہد نظر آئے مگر بیوی ان باتوں کو بے بنیاد قرار دیتی رہی۔ کچھ ماہ تک اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد بالآخر اس انجینئر نے بیوی کی جاسوسی کا فیصلہ کیا اور گھر کے مختلف حصوں میں کیمرے لگادئیے۔ ان کیمروں اور بیوی کے موبائل فون کو ریموٹ سرور ٹیکنالوجی کے زریعے اپنے لیپ ٹاپ سے منسلک کیا، اور نگرانی کرنے بیٹھ گیا۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بنگلور شہر سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کو گزشتہ سال فروری سے اپنی بیوی کے کردار پر شک تھا مگر کوئی ثبوت نہ مل رہا تھا۔ اسے کئی شواہد نظر آئے مگر بیوی ان باتوں کو بے بنیاد قرار دیتی رہی۔ کچھ ماہ تک اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد بالآخر اس انجینئر نے بیوی کی جاسوسی کا فیصلہ کیا اور گھر کے مختلف حصوں میں کیمرے لگادئیے۔ ان کیمروں اور بیوی کے موبائل فون کو ریموٹ سرور ٹیکنالوجی کے زریعے اپنے لیپ ٹاپ سے منسلک کیا، اور نگرانی کرنے بیٹھ گیا۔
انجینئر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دردناک معاملے کی تفصیل سناتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیوی نے اپنے آشنا کو فون کیا کی اور اسے گھر آنے کو کہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مانع حمل گولیاں لیتا آئے۔ انجینئر نے بتایا کہ کچھ دیر بعد اس کے کیمروں نے بے حیائی کے ایسے منظر دکھائے کہ وہ کانپ اٹھا۔ اس کی بیوی کا آشنا آیا اور انہوں نے پہلے باورچی خانے اور پھر بیڈ روم میں جی بھر کر بے حیائی کی، جبکہ اس دوران خاتون کی تین سالہ بچی بھی گھر میں موجود تھی۔ انجیئیر نے تمام واقعات کے ناقابل تردید ثبوت عدالت میں بھی پیش کردئیے۔
بنگلور شہر کی مصالحتی کونسل کے ایک رکن نے بڑھتی ہوئی طلاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے راہ روی اور بدکرداری کی وجہ سے اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیس کئی بار ان کے سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ جوڑے دوبارہ اکٹھے رہنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ طلاق کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔
بنگلور شہر کی مصالحتی کونسل کے ایک رکن نے بڑھتی ہوئی طلاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے راہ روی اور بدکرداری کی وجہ سے اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیس کئی بار ان کے سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ جوڑے دوبارہ اکٹھے رہنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ طلاق کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔
Saturday, August 20, 2016
اسامہ آپریشن پر کتاب کی کمائی حکومت کو ملے گی
اسامہ آپریشن پر کتاب کی کمائی حکومت کو ملے گی
اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے امریکی نیوی سیل جنھوں نے اس واقعے کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی، امریکی حکومت کو تقریباً سات ملین ڈالر ہرجانے کے طور ادا کریں گے۔
میٹ بسنیٹ نامی اس امریکی فوجی نے سنہ 2012 میں یہ کتاب لکھی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے امریکی محمکہ دفاع پینٹاگون سے پشگی اجازت نہیں لی تھی اور ان پر راز داری کے قانون کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا۔
سابق امریکی سیل اس بات پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ اپنی کتاب سے حاصل ہونے والا تمام منافع وہ حکومت کو دے دیں گے۔ میٹ اس کے ساتھ فلم کے حقوق سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میٹ پر کیے جانے والے دیگر ہرجانے کے کیس ختم کر دے گی۔
خیال رہے کہ سنہ 2011 میں امریکی فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا اور ان کی میت کو سمندر برد کر دیا تھا۔
امریکی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت میں میٹ کی جانب سے داخل کیے گئے بیان میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ کتاب شائع کرنے سے قبل انھوں نے پینٹاگون سے اس کی اجازت نہیں لی تھی۔
میٹ نے اپنے بیان میں معافی بھی مانگی ہے اور کہا ہے کہ انھیں وکیل کی جانب سے غلط مشورہ دیا گیا تھا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی بی ایس کے مطابق سابق سیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی، میں دوسروں سے درخواست کروں گا کہ وہ کبھی ایسا نہ کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اپنے ساتھیوں کی زندگیاں خطر میں ڈالنا میرا مقصد نہیں تھا، اب میں یہ دیکھ سکتا ہوں کہ اس کتاب کی اشاعت سے قبل اجازت نہ لے کر میں نے اپنے ساتھیوں اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کے لیے میں خصوصی طور پر شرمندہ ہوں۔‘
Thursday, August 18, 2016
گوگل نے سمارٹ فون پر ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی
گوگل نے سمارٹ فون پر ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ایک اور زبردست سروس متعارف کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق گوگل نے سمارٹ فون پر اپنی ویڈیو کالنگ سروس متعارف کروا دی ہے۔ گوگل نے سمارٹ فونز کے لیے اپنی ویڈیو کالنگ سروس ڈیو لانچ کر دی ہے۔ اپلیکیشن کو سمارٹ فون میں مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ گوگل کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی اس سروس میں منفرد بات یہ ہے کہ ا?پ کو کال کرنے والے شخص کا چہرہ سکرین پر کال اٹھانے سے پہلے ہی نظر آجاتا ہے۔ اپلیکیشن کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو گوگل اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے موبائل نمبر کے ذریعے بھی اپلیکیشن کو استعمال کر سکتے ہیں۔
غلاف کعبہ حج کے دوران زمین سے تین میٹر اونچا کیوں کیا جاتا ہے؟ دلچسپ رپورٹ
غلاف کعبہ حج کے دوران زمین سے تین میٹر اونچا کیوں کیا جاتا ہے؟
دلچسپ رپورٹ
ریاض (نیوز ڈیسک) حرمین شریفین کی انتظامیہ نے حسب سابق حج کے ایام کی آمد کے ساتھ ہی غلاف کعبہ کو زمین سے تین میٹر اونچا کر دیا ہے۔ غلاف کعبہ کو زمین سے اٹھائے جانے کا مقصد حج کے ایام میں غلاف کو کسی بھی قسم کے نقصان اور اس کی قطع وبرید سے محفوظ رکھنا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غلاف کعبہ کو تین میٹر اونچا کر دیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں زائرین کعبہ اور نمازی بھی موجود تھے۔ غلاف کعبہ 9 ذی الحج تک زمین سے تین میٹر بلند رہے گا تاکہ اس دوران غلاف کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔خیال رہے کہ ماضی میں حج کے ایام میں عازمین غلاف کعبہ کو چھونے کے ساتھ اس کے ٹکڑے تبرک کے طور پر کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے جس سے بیت اللہ کے غلاف کو نقصان پہنچتا تھا مگر اب سعودی حکومت نے غلاف کعبہ کے تحفظ کے لیے حج کے ایام میں اسے بلند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق غلاف کعبہ کو زمین سے اونچا کرنے کاعمل تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران نمازی اور زائرین کعبہ تسبیح وتہلیل کے ساتھ اللہ رب ذالجلال کی کبریائی بھی بیان کرتے رہے۔ بیت اللہ کے قریب موجود زائرین نے غلاف کو اوپر اٹھانے کے مناظر کو اپنے موبائل کیمروں میں بھی محفوظ کیا۔غلاف کعبہ نو ذی الحج (یوم عرفہ) کی صبح تک اونچا رکھا جائے گا۔ نوذی الحج کو خانہ کعبہ کا نیا غلاف بیت اللہ کی زینت بنایا جائے گا اور پہلے غلاف کو اتار لیا جائے گا۔
Monday, August 15, 2016
قیامت کی خوفناک نشانیاں، جن میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں
قیامت کی خوفناک نشانیاں، جن میں سے اکثر پوری ہو چکی ہی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیاں تسبیح کے دانوں کی طرح ہیں، جب تسبیح ٹوٹتی ہے تو دانے بکھر جاتے ہیں۔ قیامت کی بڑی نشانیاں کونسی ہیں؟ ان میں دجال کا خروج، دنیا جب سے بنی ہے تب سے قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ نہ تو آیا ہے نہ آئے گا، حضرت عیسیٰؑ کا نزول، یاجوج اور ماجوج، ان کے قبیلے کا کسی کو نہیں علم کہ کہاں ہیں اور ان کو ذولقرنین نے اللہ کی مدد سے کہاں قید کیا تھا، تین ایسے بڑے زلزلے جس میں زمین کے تین مختلف حصے نیست و نابود ہو جائیں گے، ان میں ایک زلزلہ مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جذیرۃالعرب میں آئے گا۔ دھواں جو پوری روئے زمین پر پھیل جائے گا جسے قرآن میں الدخان کہا گیا ہے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یہ سب سے بڑی نشانی ہوگی اور اس کے بعد روایات کے مطابق توبہ کے در بند کر دئیے جائیں گے کیونکہ یہ ایک بالکل واضح نشانی ہوگی۔ الدابۃ پورا نام دابۃ الارض، ایک جانور جو زمین سے نکلے گا اور ہر انسان کی پیشانی پر نشان لگائے گا۔ ایک آگ جو یمن میں لگے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔
یہ نشانیاں کسی ترتیب میں نہیں اور کس ترتیب میں ظاہر ہونگی یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ احادیث میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا پہلی نشانی کے طور پر آیا ہے اور کچھ علمائے دین دجال کے خروج کو پہلی نشانی کہتے ہیں لیکن بہر حال جو چیز روئے زمین میں سب سے پہلی تبدیلی پیدا کرے گی وہ سورج سے مغرب کا طلوع ہونا ہی ہو سکتا ہے۔ پھر دجال ہے جس کے بارے میں کئی احادیث ہیں جن کا مفہوم ہے کہ دجال چالیس روز میں دنیا کا چکر لگائے گا، احادیث کے مطابق ان چالیس دنوں میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر ، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہونگے۔ دجال ایک آنکھ والا ہوگا اور اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جس کو پڑھنے کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں اس کے لئے صرف ایمان ہونا ہی کافی ہوگا اور یہی ایمان پڑھے لکھے یا ان پڑھ یا زبانوں کے اختلاف کو ختم کر دے گا۔ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال دنیا کے ہر مقام تک جائے گا۔ اس کی ایک جنت ہوگی اور ایک جہنم ہوگی جبکہ در حقیقت اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو آنکھیں بند کر کے اس کی آگ میں کود جانا وہاں ٹھنڈا پانی ہوگا (یہ مفہوم ہے)۔ دجال طاقتور ہوگا، ایک انتہائی طاقتور فتنہ وہ تمام لوگ جن کا ایمان کمزور ہوگا اس کی طرف کھنچے جائیں گے اور اس کے باتوں کو اڈاپٹ کریں گے ان پر عمل کریں لیکن وہ سب جھوٹ ہوگا اور جھوٹ چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ایک نہ ایک دن کھلتا ضرور ہے۔ دجال، حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ سے قتل ہوگا اور یہ واقعہ فلسطین میں باب لد کے مقام پر پیش آئے گا۔
حضرت عیسیٰؑ فجر کی نماز کے وقت دمشق کی ایک مسجد میں نازل ہونگے، ان کے ہاتھ فرشتوں کے پروں پر ہونگے، نماز کا وقت ہو چکا ہوگا اور مسلمان حضرت مہدی کی امامت میں نماز ادا کرنے کے لئے تیار ہونگے، حضرت مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہیں گے لیکن اللہ نے یہ فخر امتِ محمدی ﷺ کے لئے رکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک امتی کی حیثیت سے حضرت مہدی کی امامت میں عام مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد کے واقعات میں دجال سے جنگ ہے اور اس کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ امتِ مسلمہ کو لیکر طور پر روانہ ہونگے کیونکہ یاجوج ماجوج کا خروج ہو چکا ہوگا اور ان سے مقابلہ آسان نہیں۔ وہ تعداد میں اتنے ہونگے کہ ہر سمت سے حملہ آور ہونگے، زمین کا سارا پانی پی جائیں گے لوگ ان سے بھاگیں گے اور پھر جب وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا تو تیر آسمان کی طرف کر کے چلائیں گے جو جب واپس آئیں گے تو خون آلود ہونگے اور یاجوج ماجوج خیال کریں گے کہ انہوں نے آسمانوں پر بھی سب ختم کر دیا۔ پھر وہ مسلمانوں کا محاصرہ کریں گے اور وہ محاصرہ بہت سخت ہوگا، حضرت عیسیٰ اور مسلمان اللہ سے دعا کریں گے اور اللہ دعا قبول فرما کر یاجوج اور ماجوج پر عذاب بھیجیں گے جو کہ کیڑوں کی شکل میں ان کے جسموں میں داخل ہوگا اور ان کو مار دے گا۔حضرت عیسیٰ اور مسلمان باہر آئیں گے لیکن روئے زمین پر کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی جہاں ہاجوج و ماجوج کی لاشیں موجود نہ ہوں، وہ تعداد میں اتنے ہونگے کہ ساری زمین ان کی لاشوں سے پُر ہوگی۔حضرت عیسیٰ دوبارہ دعا فرمائیں گے اور اس بار اللہ تعالیٰ بارش بھیج کر پوری زمین کو صاف فرما دیں گے۔
اس کے بعد حضرت عیسیٰ صلیب کو توڑ کر ختم کر دیں گے اور اس طرح وہ شرک جو حضرت عیسیٰ کے نام پر ہوتا رہا ختم ہو جائے گا، اس کے بعد خنزیر کا خاتمہ ہوگا اور پھر حضرت عیسیٰ جزیہ بھی ختم کریں گے، یہ وہ وقت ہوگا جب ایک بار پھر سے زمین پر عدل قائم ہو رہا ہوگا۔جزیہ کا خاتمہ ایک طرح سے اسلامی لشکر کشی کی ان تین شرائط میں سے ایک کی کمی کی طرف بھی اشارہ ہے جو ابھی یہ ہیں:۔ نمبر ایک، اسلام قبول کر لو تو ہمارے بھائی ہو، نمبر دو، جزیہ دے دو تو لشکر کشی نہیں کی جائے گی، نمبر تین، پہلی دو شرائط قبول نہیں تو ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔ حضرت عیسیٰ ان میں سے جزیہ والی شرط ختم کر دیں گے اور مشرکین کے پاس صرف دو ہی راستے ہونگے، یا اسلام یا جنگ۔ حضرت عیسیٰ اسلام کو وہ آخری فتح دیں گے اور اس کے بعد روئے زمین پر امن پھیل جائے گا۔اسی دور میں اسلام کے علاوہ تمام دیگر مذاہب کا خاتمہ کر دیا جائے گا، صرف اسلام باقی رہے گا۔مسلم کی دو احادیث ہیں، ایک میں ہے کہ حضرت عیسیٰ زمین پر چالیس برس رہیں گے اور ایک میں ہے کہ سات برس تک زمین پر رہیں گے۔ علماء کرام کہتے ہیں کہ چالیس برس حضرت عیسیٰ کی زمین پر مکمل زندگی کا وقت ہے جس میں سے 33 برس وہ گزار چکے ہیں اور باقی سات برس قیامت سے قبل گزاریں گے۔اس کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔
اس کے بعد شام (ملک) سے ایک ایسی ہوا چلے گی جو ہر ایمان والے کی جان نکالتی جائے گی۔ کسی کے دل میں ایک ذرہ بھی ایمان کا ہوا تو اس کی موت ہو جائے گی۔اس کے بعد مشرکین اور کافرین باقی ہونگے اور قیامت انہی پر قائم ہوگی۔ قیامت کی چوتھی، پانویں اور چھٹی نشانیاں ہیں تین بڑے زلزلے جو زمین کے تین مختلف حصوں میں آئیں گے۔ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزرۃ العرب میں اور ان کی شدت ایسی ہوگی کہ زمین کا وہ حصہ بالکل مٹ جائے گا۔یوں سمجھیں کہ ایسا زلزلہ ہوگا کہ مغربی امریکہ صفحہ ہستی سے بالکل مٹ جائے۔ ساتویں نشانی، دھواں، الدخان، قرآن میں ہے آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا، جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے۔ ماننے والوں کے لئے یہ ایک نشانی ہوگی اور نہ ماننے والوں کے لئے دردناک عذاب۔ آٹھویں نشانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یہ ایک بہت لمبی رات ہوگی، متقی و پرہیز گار رات کو تہجد کے لئے جاگیں گے، نوافل ادا کریں گے اور سو جائیں گے، پھر جاگیں گے پھر نفل پرھیں گے اور پھر سو جائیں گے لیکن دن طلوع نہیں ہوگا، پھر سے سو کر اٹھیں گے، نفل پڑھیں گے اور سوچیں گے کہ فجر کا وقت ہونے والا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں ہوگا تب وہ سمجھیں گے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ پھر سورج طلوع ہوگا لیکن سب کچھ تبدیل ہوگا کیونکہ مشرق کی بجائے مغرب سے نکلے گا، توبہ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے، ایک واضح نشانی پوری آب و تاب سے چمک رہی ہوگی، لوگ توبہ کرنا چاہیں گے لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
نویں نشانی، الدابۃ، یہ ایک جانور ہوگا جو مومن اور کافرین کو الگ الگ نشانی لگائے گا، لوگوں سے بات کرے گا، اس کے ایک ہاتھ میں حضرت موسیٰ کا عصا ہوگا اور ایک ہاتھ میں حضرت سلیمان کی مہر۔ حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک مومن کے چہرے پر نشان لگائے گا اور حضرت سلیمان کی مہر سے ایک کافر کے چہرے پر۔ اھادیث میں ہے کہ لوگ ساتھ کھائیں گے اور ایکدوسرے کو یا مومن یا کافر کہہ کر بلائیں گے۔دسویں نشانی، ایک زبردست آگ جو یمن سے لگے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی، لوگ آگے ہونگے اور آگ پیچھے جو پیچھے رہ جائے گا وہ جل جائے گا۔ یمن میں کئی آتش فشاؤں کے دہانے موجود ہیں، قیاس یہی ہے کہ یہ آگ یہیں سے نکلے گی۔ میدان حشر کے بارے میں اختلاف ہے، عرفات کے میدان کو بھی کہا جاتا ہے جبکہ شام، اردن، لبنان اور فلسطین کے مقامات کی طرف بھی اشارہ ہے، یہیں بیت المقدس بھی ہے اور کئی احادیث میں آپ ﷺ نے اس مقام کی یعنی بیت المقدس اور فلسطین کی تعریف فرمائی ہے، مسلمانانَ عالم یہیں پر مسلسل مصروفِ جہاد ہیں، تمام بڑی جنگیں یہی پر ہوئی ہیں اور یہ دنیا کا واحد حصہ ہے جہاں روزِ اول سے جہاد جاری ہے اور یہیں دجال اور یہودیوں کا خاتمہ بھی ہوگا۔ واللہ اعلم بالثواب
Saturday, August 13, 2016
یوم اآزادی پاکستان
یوم اآزادی پاکستان
یوم آزادی پاکستان یا یوم استقلال ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں آزادی کے دن کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان1947ء میں انگلستان سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکار ی سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ملک بھر کی اہم سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے۔اسلام آباد جو کہ پاکستان ک ادارالحکومت ہے، اس کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے، اسکے مناظر کسی جشن کا سماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیرآعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ان تقاریب کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، بعید نُما اور جالبین پہ براہ راست صدر اور وزیراعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لیجانا ہے۔
سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلی عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگاکر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما
قائداعظم محمد علی جناح کے قول "ایمان، اتحاد اور تنظیم" کی پاسداری کریں گے۔
تقاریب
14 اگست کو پاکستان میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ونیم سرکاری عمارات میں چراغاں ہوتا ہے اور سبز ہلالی پرچم لہرایاجاتا ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے او ر ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ پاکستان کی تمام شہروں میں ناظم قومی پرچم بلند کرتے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں نجی اداروں کے سربراہان پرچم کشائی کی تقاریب میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رنگارنگ تقاریب، تقاریر اور مذاکروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا جوش و خروش توقابل دید ہوتا ہے جہاں مختلف تقاریب کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں سیروتفریح سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں ، ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیر راہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں مقبرہء قائداعظم پر سرکاری طور پر گارڈ کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے ۔ اسی طرح واہگہ باڈر پر بھی ثقافتی تقاریب میں احترامی محافظوں کی تبدیلی کا عمل وقوع پزیر ہوتا ہے جبکہ غلطی سے واہگہ سرحد پار کرنے والے قیدیوں کی دوطرفہ رہائی بھی ہوتی ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں می...
-
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنج...
-
گزشتہ روز آئی ٹی کی دنیا میں ایک ناقابل یقین ڈیل سائن کی گئی جس میں ڈیل کمپنی نے ایم سی نامی کمپنی کو 65 ارب ڈالر میں خرید کر ٹیکن...






























