Friday, August 26, 2016

گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں

گوگل کے نمائندے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیوں میں


دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے نمائندے ڈیزائننگ اور ویب ڈویلپمنٹ میں دلچسپی رکھنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی بار پاکستانی یونیورسٹیز کا دورہ کر رہی ہے۔
اپنے 11 روزے کے دوران گوگل کے نمائندے پاکستان کی نو یونیورسٹیوں میں جائیں گے۔
گوگل نے پاکستان آنے کے لیے اپنا جو شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ 30 اگست کو انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے اپنا دورہ شروع کریں گے اور یہ عمل نو ستمبر کو یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے دورے پر ختم ہو گا۔
اس دوران یہ ٹیم کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز، ٹوپی ضلع صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینیئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور لاہور میں لمز اور یو ای ٹی کے علاوہ یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کا دورہ کرے گی۔
گوگل کے نمائندوں کے دورۂ پاکستان کا مقصد چھوٹے ڈویلپرز، ڈیزائنرز اور بلاگرز کے کام کی حوصلہ افزائی کے علاوہ انھیں ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے پیسہ کمانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر گوگل کی نئی منصوعات گوگل ایڈ سینس اور گوگل ایڈ موب کو بھی متعارف کروایا جائے گا۔
گوگل کا یہ ایونٹ ویب ڈیزائینگ اور ایپ ڈویلمپنٹ میں اپنا کریئر شروع کرنے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے مدد گار ثابت ہو گا۔

Monday, August 22, 2016

لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

یونیورسٹی آف برکلے کیلیفورنیا کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق لپ سٹک کا استعمال آپ کے چہرے کی چمک تو بڑھا سکتا ہے لیکن یہ آپ کے باقی جسم کے لئے اچھا نہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہو ں نے لپ سٹک کے 32مشہور برینڈز کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان میں لیڈ، کاڈ میم، کرومیم، اور ایلومینیم کے علاوہ پانچ دیگر دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں۔اس تحقیق کی مصنفہ کیتھرین ہمند کا کہنا ہے کہ ان دھاتوں کی موجودگی سے بھی اہم ان کی مقدار ہے، ان کے مطابق چند مہلک دھاتوں کی مقدار اس قدر زیادہ پائی گئی کہ وہ کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جو لپ سٹک کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں، مزید یہ کہ معمول کا استعمال کرنے والوں کو بھی کرومیمکے باعث پیٹ کے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔مصنفہ کے مطابق اس تحقیق کے باعث بہت گھبرانا نہیں چاہئے لیکن جو خواتین دن میں کئی مرتبہ لپ سٹک کا استعمال کرتی ہیں انہیں اس بارے میں سوچنا ضرور چاہئے، انہوں نے امریکی حکومت سے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔

اب آپ فیس بک پر یہ کا م بھی کر سکیں گے ۔۔۔ 

اسلام آباد(ما نیٹرنگ ڈیسک ) کیا آپ کو فیس بک پر انگلش میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ لکھنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے ؟ اگر ہاں تو اب کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ ہی آپ کی مدد کرے گی۔جی ہاں فیس بک نے خودکار ترجمہ کرنے والا فیچر متعارف کرادیا ہے جو مختلف زبانوں میں آپ کی پوسٹس کو شائع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ملٹی لینگویج کمپوزر نامی اس فیچر کے ذریعے آپ کسی ایک زبان میں اپنی پوسٹ کو لکھیں اور پھر اپنی پسند کی دیگر زبانوں کا انتخاب کرلیں جن میں شائع کرنا چاہتے ہیں اور پبلش کردیں۔مثال کے طور پر اگر آپ انگلش میں کچھ لکھتے ہیں اور ہسپانوی زبان میں پبلش کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیا کمپوزر آپ کی مدد کرے گا۔ابھی اس ٹول میں 45 زبانیں موجود ہیں اور فیس بک کا کہنا ہے کہ جلد ان میں اضافہ کیا جائے گا۔اس فیچر کو استعمال میں لانے کے لیے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جاکر post in multiple languages پر کلک کریں۔

اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے

 اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے 

آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اہرام مصر دنیا کے عجوبوں میں شامل ہیں اور قدیم ترین اہرام ہیں لیکن اب ماہرین نے ان سے بھی زیادہ قدیم ایک اہرام دریافت کر لیا اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ ہرم مصر نہیں بلکہ قازقستان میں دریافت کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا ہرم قازقستان کے شہر کاراگنڈا کے قریب سرے ارکا کے (Sary Arka)علاقے میں دریافت ہوا ہے اور یہ 3ہزار سال قدیم ہے۔ اگرچہ یہ ہرم اب انتہائی خستہ حالت میں ملا ہے تاہم طرز تعمیر میں یہ اہرام مصر کے بالکل مشابہہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دریافت کاراگنڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کے سربراہ وکٹر نوفزینوف کا کہنا ہے کہ ”اس ہرم کی عمارت کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 3ہزار سال سے بھی قبل مقامی بادشاہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاحال ہم نے اس ہرم کے اندر کی صورتحال معلوم نہیں کی لیکن رواں ہفتے ہی ہم اس کے اندر داخل ہوں گے۔ اس کے اندرسے ہمیں جو کچھ بھی ملے وہ ہم کاراگنڈا آرکائیولوجیکل میوزیم میں رکھیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان قدیم اشیاءکو دیکھ سکیں۔“

Sunday, August 21, 2016

کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا


نئی دلی (نیوز ڈیسک) جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکاہے، یہاں تک کہ بے وفا شریک حیات کو پکڑنے کے لئے بھی لوگوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، مگر اس کا نتیجہ بہت صدمہ خیز بھی ہو سکتا ہے۔ 
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بنگلور شہر سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کو گزشتہ سال فروری سے اپنی بیوی کے کردار پر شک تھا مگر کوئی ثبوت نہ مل رہا تھا۔ اسے کئی شواہد نظر آئے مگر بیوی ان باتوں کو بے بنیاد قرار دیتی رہی۔ کچھ ماہ تک اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد بالآخر اس انجینئر نے بیوی کی جاسوسی کا فیصلہ کیا اور گھر کے مختلف حصوں میں کیمرے لگادئیے۔ ان کیمروں اور بیوی کے موبائل فون کو ریموٹ سرور ٹیکنالوجی کے زریعے اپنے لیپ ٹاپ سے منسلک کیا، اور نگرانی کرنے بیٹھ گیا۔
انجینئر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دردناک معاملے کی تفصیل سناتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیوی نے اپنے آشنا کو فون کیا کی اور اسے گھر آنے کو کہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مانع حمل گولیاں لیتا آئے۔ انجینئر نے بتایا کہ کچھ دیر بعد اس کے کیمروں نے بے حیائی کے ایسے منظر دکھائے کہ وہ کانپ اٹھا۔ اس کی بیوی کا آشنا آیا اور انہوں نے پہلے باورچی خانے اور پھر بیڈ روم میں جی بھر کر بے حیائی کی، جبکہ اس دوران خاتون کی تین سالہ بچی بھی گھر میں موجود تھی۔ انجیئیر نے تمام واقعات کے ناقابل تردید ثبوت عدالت میں بھی پیش کردئیے۔ 
بنگلور شہر کی مصالحتی کونسل کے ایک رکن نے بڑھتی ہوئی طلاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے راہ روی اور بدکرداری کی وجہ سے اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیس کئی بار ان کے سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ جوڑے دوبارہ اکٹھے رہنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ طلاق کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔