Saturday, September 17, 2016

میں نے3راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں، ایک ماہی گیر کا انوکھا واقع

سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپر کئی روز بعد دوبارہ ظاہر ہوگیاہے۔ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپین کی کوسٹ گارڈ کے کئی روز تک سمندر میں تلاش کرنے کے بعد جب 56سالہ ماہی گیر کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تو یہ یقین ہوگیا کہ وہ سمندری مخلوق کی خوراک بن چکاہے۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

Thursday, September 15, 2016

ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کا حل آخر انسان نے ڈھونڈ ہی نکالا، ایک ایسا انکشاف جو ذہنوں کو ہلا کر رکھ دے

مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں میں رہی ہے ۔ مختلف طریقے تلاش کئے گئے ، مختلف ترکیبیں اپنا ئی گئیں ۔مگر انسان کو زوال آکر ہی ر ہا۔ ایک انٹرنیشنل اخبار کے مطابق دمتری اسکوف نے دنیا کے بہترین نیورو سائنسدانوں، شعور پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور روبوٹ سازوں کو جمع کرلیا ہے، تاکہ وہ اپنا دماغ ایک جدید روبوٹ میں اپ لوڈ کرسکیں، اور یوں اپنے فانی جسم کی قید سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوکر ایک روبوٹ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکیں۔ دمتری اسکوف نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے دنیا کا ذہین ترین روبوٹ ایریکا تیار کرنے والی جاپانی کمپنی کی مدد بھی حاصل کرلی ہے۔ سائنسدان دمتری اسکوف کے دماغ میں موجود تمام ڈیٹا، خصوصاً ان کے احساسات، جذبات اور یادداشتوں کو روبوٹ کی میموری میں منتقل کریں گے۔اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب سپر کمپیوٹر جیسی میموری اور پراسیسنگ کی طاقت رکھنے والے روبوٹ میں انسانی دماغ کے تمام احساسات و خیالات منتقل کردئیے جائیں گے تو یہ ہوبہو انسانی دماغ کی طرح کام کرے گا۔ دمتری اسکوف نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ 2045 تک اپنے انسانی جسم سے نکل کر ایک روبوٹ میں منتقل ہوچکا ہو گا اور اس نئی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکے گا۔
دوسری جانب کچھ سائنسدانوں نے اس پراجیکٹ کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں ایک عالمی شہرت یافتہ نیورو سائنسدان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو سرا سر احمقانہ خیال قرار دیا ہے۔

فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹرکی مشترکہ کاروائی، بڑا اعلان

لندن ( این این آئی) فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے یورپین کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا جسے درخواست ملنے پر اس کے 24گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ کی دنیا کی 4بڑی کمپنیوں فیس بک، مائیکروسافٹ، گوگل اور ٹوئٹر نے نفرت انگیز مواد کے خلاف کریک ڈان کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ہر طرح کے نازیبا مواد کو رپورٹ کرنے پر 24گھنٹوں کے اندر جائزہ لے کر سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کی سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔نوجوان نسل کو خراب کرنے کے لیے دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے کی تضحیک کرنے اور ذاتی لڑائیوں کا بدلہ لینے کے لیے بھی ایک دوسرے کے خلاف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلے بھی کسی نازیبا مواد کو رپورٹ کیا جاسکتا تھا لیکن اب سماجی رابطوں کی ان بڑی کمپنیز نے وعدہ کیا ہے کہ اس طرح کے مواد کو ان کے دنیا بھر میں موجود نمائندے بروقت جائزہ لینے کے بعد 24گھنٹوں کے اندر اندر حذف کر دیں گے۔فیس بک اور ٹوئٹر جو کہ اس وقت سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہیں وہ اس حوالے سے کچھ مزید اقدامات میں بھی مصروف ہیں۔ ان اقدامات کے تحت آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کو بھی نفرت انگیز اور نازیبا مواد کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ نظام ان ویب سائٹس پر موجود قابل اعتراض تصاویر کی خود بخود نشاندہی کرکے انہیں حذف کر سکتا ہے۔ مثلا فحش اور اسلحہ تھام کر بنائی گئی تصویروں کو یہ نظام جلد اور زیادہ تعداد میں ڈھونڈ سکے گا۔ یعنی انسانوں کی نشاندہی کے مقابلے میں یہ نظام خود ہی زیادہ تر قابل اعتراض مواد کو پکڑ لے گا۔سوشل میڈیا کو پرامن اور دوستانہ رابطوں کے ذرائع برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کی ان چاروں بڑی کمپنیوں کا یہ اتحاد وقت اور حالات کی اشد ضرورت تھا۔

آج کے بعد فیس بک پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ مواد فیس بک پر شیئر کرنے والے ملزم کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کا حکم سنادیا۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کومزید ایک سال قید کی سز ا بھگتنا ہو گی۔ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کرنے کے جرم میں نوید احمد کو زیر دفعہ گیارہ ڈبلیو اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9کے تحت مجموعی طور پر دو دو سال قید اور 50،50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔فاضل جج نے ممنوعہ لٹریچر کی تشہیر اور برآمدگی پر سلانوالی کے ملزمان محمد ذوالفقار اور حنیف الرحمن کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔استغاثہ کے مطابق فیصل آباد کے رہائشی ملزم نوید احمد پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر فرقہ وارانہ مواد شیئر کیا تھا جس پر مئی کے مہینے میں تھانہ سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم نوید احمد کو حراست میں لیا تھا ۔‎

موبائل فون پر میسیج آپ کو ایک خطرناک بیماری میں مبتلا کر رہے ہیں، اہم تحقیق




سر جھکا کر موبائل فون پر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے خبردار، پٹھوں کا درد، کمر کی تکلیف اور آنکھوں کی کمزوری کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سر کو جھکا کر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے موبائل فون صارفین میں صحت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، وفاقی داراحکومت کے اسپتالوں میں بھی ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو فون کے مسلسل استعمال کے باعث پٹھوں کی تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔موبائل فون جہاں ضرورت ہے، وہیں اس کا بے جا استعمال کچھ جسمانی تکالیف کو بھی جنم دے رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ میسجنگ کرنے یا لمبی کال سننے کے لئے سر کو مسلسل جھکائے رکھنے سے گردن کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ڈاکٹر وں کے مطابق موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گردن کا درد زیادہ ہوتا ہے، سر ایک طرف جھکا کر جو مسلسل بات کرتے ہیں، ان کی گردن کا درد ہوتا ہے، ٹیکسٹ میسجینگ کرنے سے انگلیوں کے جوائنٹس کے درد کے مریضوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں گردن پر متبادل سمت میں پڑنے والا دباو اندرونی سوجن پیدا کرتا ہے، تکلیف کا شکار مریضوں کو مخصوص مشقوں کے ساتھ پٹھوں کو حرارت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فون کا استعمال ضرور کیجئے لیکن ا?ئی لیول کا خیال بھی رکھیں، کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔


Sunday, September 11, 2016

زیادہ تر کاروبار ناکام کیوں ہوتے ہیں؟گوگل کے سربراہ نے ”راز“سے پردہ اٹھادی


گوگل سے قبل کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کررہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنیاں یا تو ختم ہوگئیں یا پھر ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ میدان عمل سے تقریباًباہر نکل گئیں ۔لیکن گوگل نے بعد میں آنے کے بعد بھی دنیا میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔آخر اس بات کی کیا وجہ ہے کہ گوگل سب سے آگے ہے اور باقی کاروبار تباہ ہورہے ہیں یا وہ بہت پیچھے ہیں۔گوگل کے سربراہ ایرک شمیڈیٹ نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ کاروبار اس لئے تباہ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک کام تو بہت اچھے طریقے سے سرانجام دیتے ہیں لیکن دوسرے کام کے لئے سوچتے بھی نہیں اور اس پر ان کی توجہ بالکل بھی نہیں ہوتی۔اس کا کہنا تھا کہ ایسی کمپنیاں اپنا ویژن وسیع نہیں کرتیں اور آنے والے وقت کی ضرورتوں کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھ پاتیں ۔اس کا کہنا تھا کہ گوگل ان تمام باتوں پر توجہ دیتا ہے جو وقت کی ضرورت ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی ایک ارتقائی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انقلابی عمل ہے۔ایرک کا کہنا تھا کہ گوگل کی حکمت عملی نہ صرف موجودہ دور کی امنگوں کی تکمیل ہے بلکہ ہم آنے والے کل پر بھی گہری نظر رکھنا ہے

ساڑھے 6 کروڑ سے زائد لوگوں ڈیٹا چوری ہو گیا کہیں آپ بھی ان میں شامل تو نہیں؟


آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس کے 6کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس انتظامیہ نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے 6 کروڑ 80 لاکھ صارفین کے ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈ چوری کرلیے گئے ہیں جنہیں ہیکرز نے انٹرنیٹ پر کھلے عام رکھ دیا ہے اور کوئی بھی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ڈراپ باکس کے مطابق یہ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز غالباً 2012ء میں چرائے گئے تھے لیکن انہیں 2 ہفتے پہلے ہی انٹرنیٹ پر عام کیا گیا ہے۔ کمپنی کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ان چوری شدہ پاس ورڈز اور ای میل ایڈریسز کے ذریعے کوئی غیرقانونی طور پر اس کے نیٹ ورک میں داخل ہوا بھی ہے یا نہیں۔ہیکنگ کی اس واردات کے بعد ڈراپ باکس نے معذرت کرتے ہوئے اپنے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈز جلد از جلد تبدیل کرلیں تاکہ کسی کو ان کے ڈراپ باکس اکاونٹ میں داخل ہونے اور ان کے حساس ڈیٹا تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔آن لائن ڈیٹا سٹوریج جسے ’’کلاویڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، صارفین کو انٹرنیٹ پر اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سہولیات وغیرہ پر مشتمل ہے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔

اخبار فروش کھرب پتی کیسے بنے ؟ ناقابل یقین داستان



 گزشتہ روز آئی ٹی کی دنیا میں ایک ناقابل یقین ڈیل سائن کی گئی جس میں ڈیل کمپنی نے ایم سی نامی کمپنی کو 65 ارب ڈالر میں خرید کر ٹیکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل اپنے نام کر لی۔ ڈیل کمپنی کے مالک مائیکل ڈیل کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ ان کے ذاتی اثاثہ جات کی مالیت 20 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ مائیکل ڈیل کی کہانی انہی کی طرح قابل رشک ہے ۔
ڈیل نے اخبار بیچ کر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ بین الاقوامی جریدے بزنس انسائیڈ کی رپورٹ کے مطابق مائیکل ڈیل نے جس طرح کھرب پتی بننے کا سفر طے کیا وہ دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مائیکل ڈیل فروری 1965 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے مشہور شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوئے ۔ بچپن سے ہی انہیں ٹیکنالوجی ڈیوائسز سے انتہائی دلچسپی تھی انہوں نے 15 برس کی عمر میں پہلا ایپل کمپیوٹر خریدا اور اسے پرزے پرزے کر دیا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں ۔
ہائی سکول میں انہیں اخبارات کی سبسکرپشن فروخت کرنے کی ملازمت دی گئی اس میں بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور صرف ایک برس میں 18 ہزار ڈالر کمالئے ۔ ٹیکنالوجی میں انتہائی دلچسپی رکھنے کے باوجود انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی میں میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لے لیا اور فارغ اوقات میں کمپیوٹر اپ گریڈ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کرتے اور کمپیوٹر اپ گریڈ کر کے اپنے ساتھی طلباء میں فروخت کر دیتے جس سنے انہوں نے پہلے ہی ماہ میں 80 ہزار ڈالر کما لئے۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ سیلز کی بجائے صارفین کو براہ راست کمپیوٹر فروخت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے پی سیز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی جو کہ کمپیوٹرز کے تمام پارٹس کو اسمبل کرکے کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا کام کرتی تھی۔اس کمپنی نے پہلے سال ہی 60 لاکھ ڈالرز کمائے اور جلد ہی کمپیوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ 1987 میں کمپنی کا نام تبدیل کر کے ڈیل رکھ دیا گیا ۔ جس کے بعد اس کے حصص 1988 میں فروخت کے لئے منڈی میں پیش کئے گئے ۔ اس فروخت سے بھی مائیکل ڈیل کو 18 ملین ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔ 1992 میں انہیں 27 سال کی عمر میں ہی دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں کے کم عمر ترین سی ای او کا اعزا ز ملا۔ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے 2001 میں یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی بن چکی تھی۔2004 میں انہوں نے اپنی کمپنی کا کنٹرول چھوڑ کر سرپرست کی حیثیت اختیار کرلی تھی مگر 2007 میں جب ڈیل کے حصص کی قیمت گرنا شروع ہوئی تو وہ دوبارہ حرکت میں آکر سی ای او کا عہدہ سنبھالا اور زوال سے بچنے کے لیے نئی بڑی مارکیٹوں میں اپنی ڈیوائسز کے لیے کمپنیوں کی خریداری اور نئی پراڈکٹس کو پیش کرنا شروع کیا۔
گزشتہ سال انہوں نے 67 ارب ڈالرز کے عوض ای ایم سی کو خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا جس پر عملدرآمد رواں سال ستمبر میں مکمل ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی کا نام ڈیل ٹیکنالوجیز رکھ دیا ہے اور وہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی کے مالک ہیں، جس کی آمدنی 74 ارب ڈالرز ہیں، لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس میں کام کرتے ہیں، 25 جگہوں پر ڈیوائسز تیار ہورہی ہیں جبکہ اور بھی بہت کچھ ہے۔
ان کی شادی 1989 میں ہوئی ۔ ان کے چار بچے ہیں اور یہ خاندان 33 ہزار سکوئر فٹ رقبے پر پھیلے شاندار گھر میں رہتا ہے جسے مقامی افراد قلعہ بھی کہتے ہیں ۔ اس مکان کے قریب ہی ان 6380 اسکوائر فٹ بڑا رینچ ہاؤس بھی ہے جہاں اس خاندان کے عربی النسل گھوڑے رکھے گئے ہیں۔اس سے ہٹ کر بھی مائیکل ڈیل کیرئیبین جزائر میں ایک چار منزلہ پرتعیش گھر کے مالک بھی ہیں، جبکہ ہوائی میں بھی 73 ملین ڈالرز کا گھر ان کی ملکیت میں ہے جہاں وہ اپنی تعطیلات گزارتے ہیں، جبکہ مزید کروڑوں ڈالرز کی جائیدادوں میں بھی انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔متعدد مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے پاس کئی طیارے بھی ہیں۔مائیکل ڈیل بھی دیگر بڑی کمپنیوں کے مالکان کی طرح امارت کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش ہیں ۔ ان کی فلاحی تنظیم مائیکل اینڈ سوزن ڈیل فاؤنڈیشن امریکہ سمیت دنیا بھر میں بچوح کی فلاح بہبود کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ جس میں اب تک سوا ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جا چکی ہے ۔

چین ایک دفعہ پھر دنیا پر بازی لے گیا, اس اہم کام میں تیسرے نمبر پر آگیا ، امریکہ پریشان


بیجنگ (آئی این پی ) چین پہلی سکائی ٹرین تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ، یہ ٹرین چین کے شہر نانجنگ میں تیار کی گئی ہے اس طرح چین جرمنی اورجاپان کے بعد سکائی ٹرین ٹیکنالوجی میں داخل ہونیوالا تیسرا ملک بن گیا ہے ، نانجنگ پوزن کمپنی لمٹیڈ جو کہ چین کی سب سے بڑی کمپنی رولنگ سٹاک تیار کرنیوالی ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن سے منسلک ہے نے صرف چار ماہ کی مختصر مدت میں اس کا ڈیزائن تیار کر کے ریلوے ٹرین مکمل کر لی ہے ، ریل گاڑی کے دو ڈبوں میں 200سے زیادہ مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ سب ویز اور ٹرام کے مقابلے میں سکائی ٹرین سستی ہے
یہ اونچائی پر چڑھائی چڑھنے تیز ہوائوں کا مقابلہ کرنے اور موڑ کاٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ، یہ ٹرین بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہے اور ایک بار چارج ہونے کے بعد چار گھنٹے کا سفر کر سکتی ہے تاہم کسی بھی سٹیشن پر صرف دو منٹ میں بیٹریاں چارج کی جا سکتی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین دوردراز اور پسماندہ علاقوں اور سیاحتی مقامات تک جانے کے لئے بہت اچھا انتخاب ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ امریکی معشیت کیلئے ایک پریشانی کی خبر ہےاور اوباما انتظامیہ کو اس بارے میں مزید اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے ۔