Showing posts with label Content Knowledge. Show all posts
Showing posts with label Content Knowledge. Show all posts

Tuesday, September 27, 2016

آپ کی بجلی کی تاروں میں اب کرنٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی آپ تک پہنچے گی ۔

اے ٹی اینڈ ٹی لیبز نے ایک اچھوتے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دور دراز علاقوں میں تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ تیز رفتار انٹرنیٹ بھی پہنچایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابقپروجیکٹ ایئرگگ نامی اس منصوبے کی بدولت انٹرنیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں پر وقفے وقفے سے خصوصی مواصلاتی آلات لگائے جائیں گے جو اِن تاروں میں دوڑنے والی بجلی کے ساتھ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے سگنل بھی شامل کردیں گے۔ یعنی اضافی تاریں بچھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان دور دراز علاقوں، دیہاتوں، قصبوں اور آبادیوں کے لیے ہے جہاں بجلی تو موجود ہے لیکن وہاں تک مروجہ طریقوں کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانا یا تو بے حد مشکل ہے یا پھر بہت مہنگا سودا ہے۔
فی الحال یہ پروجیکٹ ایئرگگ ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس کے دوران تاروں سے بجلی کے ساتھ ساتھ ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ البتہ اس ٹیکنالوجی کو عملی میدان تک پہنچنے اور استفادہ عام کے لیے دستیاب ہونے میں خاصا وقت لگ جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ کی نسبتاً بڑے پیمانے کی آزمائشیں اگلے سال شروع ہوجائیں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید 3 سے 4 سال میں یہ ٹیکنالوجی پختہ کرکے تجارتی مرحلے تک پہنچائی جاسکے گی۔
تاروں کے ذریعے بجلی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ڈیٹا کی منتقلی کم از کم 20 سال پرانا تصور ہے لیکن اب تک بہت سست رفتار انٹرنیٹ ہی ممکن ہوسکا ہے جس سے محدود پیمانے پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں واپڈا بھی بجلی کے استعمال پر نظر رکھنے کےلیے برقی تاروں میں انٹرنیٹ سگنلوں کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہولت پورے پاکستان میں موجود نہیں۔

Thursday, September 22, 2016

میاں بیوی کی سالانہ لڑائی کی مکمل رپورٹ تیار کر لی گئی، تفصیلات انتہائی دلچسپ

لندن(نیوزڈیسک)گھریلو ناچاقی اور میاں بیوی کے درمیان الجھنیں ہر معاشرے اور ہر دور کا حصہ رہی ہیں اور اس سے نجات کے لیے ماہرین مختلف طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیوی ایک سال میں اپنے شوہر سے 8 ہزار منٹ تک الجھتی رہتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے 3000 افراد پر یہ تحقیق کی اور پتا چلایا کہ شوہر کی نسبت بیوی زیادہ چڑچڑے پن کا شکار رہتی اور اپنے خاوند اور دیگر افراد خانہ سے ا ±لجھتی رہتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے میں کم سے کم 2 گھنٹے 25 منٹ اور ماہانہ 11 گھنٹے بیوی اپنے شوہر سے لڑتی جھگڑتی ہے۔ چونکہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہر معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے ماہرین نفسیات بیوی کے چڑچڑے پن سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے بھی تجویز کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوی سے اس کی فطرت کے مطابق ہی سلوک کیا جائے۔ کسی بھی شخص کو سو فی صد تبدیل کرنا غیر منطقی ہے۔ تبدیلی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ الجھنوں کا شکار شخص خود جب تک تبدیلی کا عزم نہ کرے تو اس کی طبیعت اور مزاج میں فرق نہیں پڑے گا۔یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ آپ کے شریک حیات کے مزاج میں پائی جانے والی تلخی کے پس پردہ اس کی تعلیم، مخصوص ماحول میں پرورش اور اس کے موروثی مسائل میں سے کوئی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ اگر خاتون اپنے شوہر پر مخصوص اور متعین ذمہ داریاں ڈالتی ہے تو اس کے اس فطرت کو بتدریج بدلا جا سکتا ہے۔شریک حیات میں سے دونوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تبدیلی پلک جھپکتے نہیں آجاتی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بتدریج اور تکرار کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔ آپ اپنے شریک حیات میں ایسی ناپسندیدہ عادات دیکھتے ہیں جنہیں آپ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسے قائل کرنے کے لیے مسلسل انداز میں مثبت کوششیں جاری رکھیں۔

گوگل نے نئی شاندار ایپ متعارف کرا دی



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)گوگل نے اپنی نئی میسجنگ ایپ ایلو متعارف کرا دی ہے جو اس وقت دستیاب دیگر ایپس سے کچھ منفرد ہے۔اس وقت فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور ایپل کے آئی میسج کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور گوگل کو توقع ہے کہ اس کی ایپ ان تینوں کے مقابلے میں کامیاب ثابت ہوگی۔اس سے قبل گوگل نے اپنی ایپ ہینگ آؤٹ متعارف کروائی تھی، جو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن اس بار گوگل کچھ مختلف سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔درحقیقت ایلو کو گوگل نے اپنی سب سے بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کیا ہے اور وہ ہے مشین لرننگ ٹیکنالوجی جسے گوگل اسسٹنٹ کا نام دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک ایسا چیٹ بوٹ ہے جو صارف اور اس کے دوستوں کو چیٹ ہسٹری فراہم کرے گا جبکہ متعدد گوگل پراڈکٹس کو بھی چیٹ کے دوران سامنے لائے گا۔اس ایپ میں صارف اپنے میسج کا سائز بدل سکے گا، خودکار ریپلائی، گوگل اسسٹنٹ سے چیٹ کرکے مختلف چیزوں یا ارگرد کے علاقے کے بارے میں معلومات کا حصول، اسٹیکرز، تصاویر ڈرا کرنا (فی الحال یہ صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے) اور سیکرٹ موڈ وغیرہ اس کے خاص فیچرز ہیں۔اس سیکرٹ موڈ میں صارف اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجز بھیج سکے گا جو کہ کچھ سیکنڈز بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائیں گے۔

Saturday, September 17, 2016

میں نے3راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں، ایک ماہی گیر کا انوکھا واقع

سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپر کئی روز بعد دوبارہ ظاہر ہوگیاہے۔ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپین کی کوسٹ گارڈ کے کئی روز تک سمندر میں تلاش کرنے کے بعد جب 56سالہ ماہی گیر کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تو یہ یقین ہوگیا کہ وہ سمندری مخلوق کی خوراک بن چکاہے۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

Thursday, September 15, 2016

ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کا حل آخر انسان نے ڈھونڈ ہی نکالا، ایک ایسا انکشاف جو ذہنوں کو ہلا کر رکھ دے

مو ت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار اور اسکا انکار ناممکنات میں سے ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ازل سے ہی انسانوں میں رہی ہے ۔ مختلف طریقے تلاش کئے گئے ، مختلف ترکیبیں اپنا ئی گئیں ۔مگر انسان کو زوال آکر ہی ر ہا۔ ایک انٹرنیشنل اخبار کے مطابق دمتری اسکوف نے دنیا کے بہترین نیورو سائنسدانوں، شعور پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور روبوٹ سازوں کو جمع کرلیا ہے، تاکہ وہ اپنا دماغ ایک جدید روبوٹ میں اپ لوڈ کرسکیں، اور یوں اپنے فانی جسم کی قید سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوکر ایک روبوٹ کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکیں۔ دمتری اسکوف نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے دنیا کا ذہین ترین روبوٹ ایریکا تیار کرنے والی جاپانی کمپنی کی مدد بھی حاصل کرلی ہے۔ سائنسدان دمتری اسکوف کے دماغ میں موجود تمام ڈیٹا، خصوصاً ان کے احساسات، جذبات اور یادداشتوں کو روبوٹ کی میموری میں منتقل کریں گے۔اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب سپر کمپیوٹر جیسی میموری اور پراسیسنگ کی طاقت رکھنے والے روبوٹ میں انسانی دماغ کے تمام احساسات و خیالات منتقل کردئیے جائیں گے تو یہ ہوبہو انسانی دماغ کی طرح کام کرے گا۔ دمتری اسکوف نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ 2045 تک اپنے انسانی جسم سے نکل کر ایک روبوٹ میں منتقل ہوچکا ہو گا اور اس نئی صورت میں ہمیشہ زندہ رہ سکے گا۔
دوسری جانب کچھ سائنسدانوں نے اس پراجیکٹ کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں ایک عالمی شہرت یافتہ نیورو سائنسدان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو سرا سر احمقانہ خیال قرار دیا ہے۔

موبائل فون پر میسیج آپ کو ایک خطرناک بیماری میں مبتلا کر رہے ہیں، اہم تحقیق




سر جھکا کر موبائل فون پر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے خبردار، پٹھوں کا درد، کمر کی تکلیف اور آنکھوں کی کمزوری کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سر کو جھکا کر ٹیکسٹ میسجز یا چیٹنگ کرنے والے موبائل فون صارفین میں صحت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، وفاقی داراحکومت کے اسپتالوں میں بھی ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو فون کے مسلسل استعمال کے باعث پٹھوں کی تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔موبائل فون جہاں ضرورت ہے، وہیں اس کا بے جا استعمال کچھ جسمانی تکالیف کو بھی جنم دے رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ میسجنگ کرنے یا لمبی کال سننے کے لئے سر کو مسلسل جھکائے رکھنے سے گردن کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ڈاکٹر وں کے مطابق موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گردن کا درد زیادہ ہوتا ہے، سر ایک طرف جھکا کر جو مسلسل بات کرتے ہیں، ان کی گردن کا درد ہوتا ہے، ٹیکسٹ میسجینگ کرنے سے انگلیوں کے جوائنٹس کے درد کے مریضوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں گردن پر متبادل سمت میں پڑنے والا دباو اندرونی سوجن پیدا کرتا ہے، تکلیف کا شکار مریضوں کو مخصوص مشقوں کے ساتھ پٹھوں کو حرارت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فون کا استعمال ضرور کیجئے لیکن ا?ئی لیول کا خیال بھی رکھیں، کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔


Sunday, September 11, 2016

اخبار فروش کھرب پتی کیسے بنے ؟ ناقابل یقین داستان



 گزشتہ روز آئی ٹی کی دنیا میں ایک ناقابل یقین ڈیل سائن کی گئی جس میں ڈیل کمپنی نے ایم سی نامی کمپنی کو 65 ارب ڈالر میں خرید کر ٹیکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل اپنے نام کر لی۔ ڈیل کمپنی کے مالک مائیکل ڈیل کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ ان کے ذاتی اثاثہ جات کی مالیت 20 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ مائیکل ڈیل کی کہانی انہی کی طرح قابل رشک ہے ۔
ڈیل نے اخبار بیچ کر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ بین الاقوامی جریدے بزنس انسائیڈ کی رپورٹ کے مطابق مائیکل ڈیل نے جس طرح کھرب پتی بننے کا سفر طے کیا وہ دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مائیکل ڈیل فروری 1965 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے مشہور شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوئے ۔ بچپن سے ہی انہیں ٹیکنالوجی ڈیوائسز سے انتہائی دلچسپی تھی انہوں نے 15 برس کی عمر میں پہلا ایپل کمپیوٹر خریدا اور اسے پرزے پرزے کر دیا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں ۔
ہائی سکول میں انہیں اخبارات کی سبسکرپشن فروخت کرنے کی ملازمت دی گئی اس میں بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور صرف ایک برس میں 18 ہزار ڈالر کمالئے ۔ ٹیکنالوجی میں انتہائی دلچسپی رکھنے کے باوجود انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی میں میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لے لیا اور فارغ اوقات میں کمپیوٹر اپ گریڈ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کرتے اور کمپیوٹر اپ گریڈ کر کے اپنے ساتھی طلباء میں فروخت کر دیتے جس سنے انہوں نے پہلے ہی ماہ میں 80 ہزار ڈالر کما لئے۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ سیلز کی بجائے صارفین کو براہ راست کمپیوٹر فروخت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے پی سیز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی جو کہ کمپیوٹرز کے تمام پارٹس کو اسمبل کرکے کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا کام کرتی تھی۔اس کمپنی نے پہلے سال ہی 60 لاکھ ڈالرز کمائے اور جلد ہی کمپیوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ 1987 میں کمپنی کا نام تبدیل کر کے ڈیل رکھ دیا گیا ۔ جس کے بعد اس کے حصص 1988 میں فروخت کے لئے منڈی میں پیش کئے گئے ۔ اس فروخت سے بھی مائیکل ڈیل کو 18 ملین ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔ 1992 میں انہیں 27 سال کی عمر میں ہی دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں کے کم عمر ترین سی ای او کا اعزا ز ملا۔ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے 2001 میں یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی بن چکی تھی۔2004 میں انہوں نے اپنی کمپنی کا کنٹرول چھوڑ کر سرپرست کی حیثیت اختیار کرلی تھی مگر 2007 میں جب ڈیل کے حصص کی قیمت گرنا شروع ہوئی تو وہ دوبارہ حرکت میں آکر سی ای او کا عہدہ سنبھالا اور زوال سے بچنے کے لیے نئی بڑی مارکیٹوں میں اپنی ڈیوائسز کے لیے کمپنیوں کی خریداری اور نئی پراڈکٹس کو پیش کرنا شروع کیا۔
گزشتہ سال انہوں نے 67 ارب ڈالرز کے عوض ای ایم سی کو خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا جس پر عملدرآمد رواں سال ستمبر میں مکمل ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی کا نام ڈیل ٹیکنالوجیز رکھ دیا ہے اور وہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی کے مالک ہیں، جس کی آمدنی 74 ارب ڈالرز ہیں، لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس میں کام کرتے ہیں، 25 جگہوں پر ڈیوائسز تیار ہورہی ہیں جبکہ اور بھی بہت کچھ ہے۔
ان کی شادی 1989 میں ہوئی ۔ ان کے چار بچے ہیں اور یہ خاندان 33 ہزار سکوئر فٹ رقبے پر پھیلے شاندار گھر میں رہتا ہے جسے مقامی افراد قلعہ بھی کہتے ہیں ۔ اس مکان کے قریب ہی ان 6380 اسکوائر فٹ بڑا رینچ ہاؤس بھی ہے جہاں اس خاندان کے عربی النسل گھوڑے رکھے گئے ہیں۔اس سے ہٹ کر بھی مائیکل ڈیل کیرئیبین جزائر میں ایک چار منزلہ پرتعیش گھر کے مالک بھی ہیں، جبکہ ہوائی میں بھی 73 ملین ڈالرز کا گھر ان کی ملکیت میں ہے جہاں وہ اپنی تعطیلات گزارتے ہیں، جبکہ مزید کروڑوں ڈالرز کی جائیدادوں میں بھی انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔متعدد مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے پاس کئی طیارے بھی ہیں۔مائیکل ڈیل بھی دیگر بڑی کمپنیوں کے مالکان کی طرح امارت کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش ہیں ۔ ان کی فلاحی تنظیم مائیکل اینڈ سوزن ڈیل فاؤنڈیشن امریکہ سمیت دنیا بھر میں بچوح کی فلاح بہبود کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ جس میں اب تک سوا ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جا چکی ہے ۔

چین ایک دفعہ پھر دنیا پر بازی لے گیا, اس اہم کام میں تیسرے نمبر پر آگیا ، امریکہ پریشان


بیجنگ (آئی این پی ) چین پہلی سکائی ٹرین تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ، یہ ٹرین چین کے شہر نانجنگ میں تیار کی گئی ہے اس طرح چین جرمنی اورجاپان کے بعد سکائی ٹرین ٹیکنالوجی میں داخل ہونیوالا تیسرا ملک بن گیا ہے ، نانجنگ پوزن کمپنی لمٹیڈ جو کہ چین کی سب سے بڑی کمپنی رولنگ سٹاک تیار کرنیوالی ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن سے منسلک ہے نے صرف چار ماہ کی مختصر مدت میں اس کا ڈیزائن تیار کر کے ریلوے ٹرین مکمل کر لی ہے ، ریل گاڑی کے دو ڈبوں میں 200سے زیادہ مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ سب ویز اور ٹرام کے مقابلے میں سکائی ٹرین سستی ہے
یہ اونچائی پر چڑھائی چڑھنے تیز ہوائوں کا مقابلہ کرنے اور موڑ کاٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے ، یہ ٹرین بیٹریوں کے ذریعے چلتی ہے اور ایک بار چارج ہونے کے بعد چار گھنٹے کا سفر کر سکتی ہے تاہم کسی بھی سٹیشن پر صرف دو منٹ میں بیٹریاں چارج کی جا سکتی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین دوردراز اور پسماندہ علاقوں اور سیاحتی مقامات تک جانے کے لئے بہت اچھا انتخاب ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ امریکی معشیت کیلئے ایک پریشانی کی خبر ہےاور اوباما انتظامیہ کو اس بارے میں مزید اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے ۔

Tuesday, September 6, 2016

دنیا کا محفوظ ترین ملک کون سا ہے؟ ایسا نام سامنے آگیا کہ آپ چونکے بغیر رہ نہیں پائیں گے

دنیا کے محفوظ ترین ملکوں کی نئی فہرست جاری کری گئی ہے جس کے مطابق دنیا بھرکے 171ممالک میں مالٹا کا پہلا ،مصر کادوسراسعودی عرب کا تیسرانمبر ہے جبکہ امریکا 116ویں نمبر پر ہے ،امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ٹیک پارٹ‘‘ کے مطابق محققین نے دنیا کے 171 ریاستوں میں قدرتی آفات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ مطالعہ جاری کیا ہے۔ منصوبے کے ڈائریکٹر پیٹر میوک کا کہنا تھا کہ مطالعے میں ماحول اور قدرتی اور انسانی زاویوں سے متعلق تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ان میں انفرا اسٹرکچر، شہریوں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی اور کسی خاص آفت کا سامنا کرنے کی صورت میں تیزی کے ساتھ امداد کی تقسیم کی قدرت شامل ہیں۔قوام متحدہ کے انسٹییوٹ فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیومن سیکیورٹی کی اس فہرست میں دنیا کا محفوwظ ترین ملک مالٹا کو قرار دیا گیا ہے، اس فہرست میں مصر دوسرے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے کی فہرست میں لائبریا کو 56ویں، زمبیا کو 66ویں اور وسطی افریقہ کو 71ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔امریکہ محفوظ ممالک کی فہرست میں 116ویں نمبر پر ہے۔یونیورسٹی رپورٹ کے مطابق ونواتو،ٹونگا،فلپائن،گوئٹے مالااوربنگلادیش خطرناک ممالک میں شامل ہیں۔خطرناک ترین پندرہ ممالک میں سے تیرہ براعظم افریقہ میں واقع ہیں، اس ممالک میں قدرتی آفات بعد بحالی کے اقدامات کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔سیلابوں زد میں رہنے والے آسٹریلیااور زلزلوں کے مرکز جاپان کوکو اس فہرست میں مشترکہ طور پر ایک سواکیس واں نمبر ملاہے۔‎

Tuesday, August 30, 2016

خلائی مخلوق بارے امریکی حکومت کیا جانتی ہے ؟

دنیا میں بہت سی تخلیقات اور راز ایسے ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے اور انہیں میں سے ایک خلائی مخلوق بھی ہے ۔کوئی اسے سچ مانتا ہے اور کوئی اسے جھوٹ تاہم امریکہ میں خلائی مخلوق کے متلاشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت جانتی ہے کہ دوسرے سیاروں سے خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ رکھی گئی اہم دستاویزات عنقریب منظر عام پر آنے والی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق خلائی مخلوق کے وجود پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 1947ء میں پیش آنے والے بدنام زمانہ واقعے ’’روزویل ‘‘میں خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری جانوروں کے ایک باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی لیکن امریکی حکومت اس واقعے کے شواہد بھی منظرعام پر نہیں لائی۔ اس وقت امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑے میں گرنے والی طشتری دراصل موسمی صورتحال بتانے والا غبارہ تھا، مگر کئی سال بعد معلوم ہوا کہ دراصل یہ ایک جاسوس طیارہ تھا جو ایٹمی خطرے کی نشاندہی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور گر کر تباہ ہو گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ تو موسمی غبارہ تھااور نہ ہی جاسوس طیارہ۔ وہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی جو زمین پر اترنے کے دوران اس باڑے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اپالو 14کے خلانورد ایڈگر مشعیل، جو رواں برس فروری میں انتقال کر چکے ہیں، نے واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکی حکومت نے اس حوالے سے ایک پورا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا کہ عوام کو یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ خلائی مخلوق ہماری زمین پر آتی رہتی ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ خلائی مخلوق انسانوں کی دشمن ہے اور آیا ہم اپنے آپ کو ان سے بچا سکتے ہیں یا نہیں۔ حکومت یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ سوویت یونین کو اس معاملے سے آگاہی ہو۔ اس پر پردہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ‘‘ کینیڈا کے ایک سابق وزیردفاع پاؤل ہیلیئر نے بھی دعویٰ کررکھا ہے کہ ’’خلائی مخلوق کا وجود ایک حقیقت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ایسے کئی شواہد دیکھ رکھے ہیں جن سے خلائی مخلوق کی زمین پر آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ میں پوری یکسوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے خلائی مخلوق کو دیکھ رکھا ہے یا جو لوگ خلائی مخلوق کے متعلق امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو لوگ 1947ء کے روزویل کے واقعے میں تباہ ہونے والی اڑن طشتری کا ملبہ دیکھنے کے داعی ہیں وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ واقعی خلائی مخلوق کی اڑن طشتری تھی۔بحر حال کیا سچ ہے اورکیا جھوٹ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔

Monday, August 29, 2016

بھارت، حادثات سے بچاؤ کیلئے گائے کے سینگوں پر چمکنے والی پٹیاں


بھارت میں گائے اور بیلوں کو ٹریفک حادثات سے بچانے کے لئے انوکھا انتظام کیا گیا ہے۔
پولیس نے ان گائے بیلوں کو ٹریفک حادثات سے بچانے کے لیے ان کی سینگوں پر چمکنے والی پٹیاں لگادی ہیں تاکہ رات کے وقت ڈرائیور انہیں با آسانی دیکھ سکیں اور کسی حادثے کا شکار نہ ہوں۔

Sunday, August 28, 2016

عبدالستا ر ایدھی پر فلم بنائی جا رہی ہے جس میں انڈین معروف اداکار کام کریں گے۔




 فلم پروڈیوسر حامد سلمان عبدالستار ایدھی پر فلم بنائیں گے جس کا کردار نصیر الدین شاہ کرینگے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی مرحوم نے امن ، محبت ، انسانیت اور بھائی چارے کے ذریعے عالمی سطح پر ملک وقوم کا نام روشن کیا۔ یہ فلم ان کو خراج عقید ت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ فلم ’’ آئی ایم ایدھی‘‘ کے نام سے بنائی جائیگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو ایسی ہی معیاری فلموں کی ضرورت ہے جس کے لیے ذریعے ہم اپنے ہیروز کو ٹریبوٹ دینے کیساتھ ایم ایشو کو پردہ اسکرین پر لاسکتے ہیں۔ فلم کی آمدن کا دس فیصد ایدھی فاونڈیشن کو دیا جائے گا، اس موقع پر ان کے ساتھ فلم کے رائٹر محمد عمر، ملک زاہد مصطفی، عطا شاہکار، اسد اللہ شاہ اورخدیجہ بھی موجود تھیں

Monday, August 22, 2016

لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لپ سٹک کے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

یونیورسٹی آف برکلے کیلیفورنیا کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق لپ سٹک کا استعمال آپ کے چہرے کی چمک تو بڑھا سکتا ہے لیکن یہ آپ کے باقی جسم کے لئے اچھا نہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہو ں نے لپ سٹک کے 32مشہور برینڈز کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان میں لیڈ، کاڈ میم، کرومیم، اور ایلومینیم کے علاوہ پانچ دیگر دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں۔اس تحقیق کی مصنفہ کیتھرین ہمند کا کہنا ہے کہ ان دھاتوں کی موجودگی سے بھی اہم ان کی مقدار ہے، ان کے مطابق چند مہلک دھاتوں کی مقدار اس قدر زیادہ پائی گئی کہ وہ کینسر کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جو لپ سٹک کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں، مزید یہ کہ معمول کا استعمال کرنے والوں کو بھی کرومیمکے باعث پیٹ کے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔مصنفہ کے مطابق اس تحقیق کے باعث بہت گھبرانا نہیں چاہئے لیکن جو خواتین دن میں کئی مرتبہ لپ سٹک کا استعمال کرتی ہیں انہیں اس بارے میں سوچنا ضرور چاہئے، انہوں نے امریکی حکومت سے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے

 اہرامِ مصر سب سے پہلے مصر میں نہیں بنائے گئے 

آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اہرام مصر دنیا کے عجوبوں میں شامل ہیں اور قدیم ترین اہرام ہیں لیکن اب ماہرین نے ان سے بھی زیادہ قدیم ایک اہرام دریافت کر لیا اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ ہرم مصر نہیں بلکہ قازقستان میں دریافت کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا ہرم قازقستان کے شہر کاراگنڈا کے قریب سرے ارکا کے (Sary Arka)علاقے میں دریافت ہوا ہے اور یہ 3ہزار سال قدیم ہے۔ اگرچہ یہ ہرم اب انتہائی خستہ حالت میں ملا ہے تاہم طرز تعمیر میں یہ اہرام مصر کے بالکل مشابہہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دریافت کاراگنڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے۔ ماہرین کی ٹیم کے سربراہ وکٹر نوفزینوف کا کہنا ہے کہ ”اس ہرم کی عمارت کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 3ہزار سال سے بھی قبل مقامی بادشاہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاحال ہم نے اس ہرم کے اندر کی صورتحال معلوم نہیں کی لیکن رواں ہفتے ہی ہم اس کے اندر داخل ہوں گے۔ اس کے اندرسے ہمیں جو کچھ بھی ملے وہ ہم کاراگنڈا آرکائیولوجیکل میوزیم میں رکھیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان قدیم اشیاءکو دیکھ سکیں۔“

Sunday, August 21, 2016

کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

کمپیوٹر ماہر کو اپنی بیگم پر شک، باوجود کوشش ثبوت نہ ملا تو پورے گھر میں خفیہ کیمرے لگادئیے، لگاتے ہی سکرین پر ایسی چیز دیکھ لی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا


نئی دلی (نیوز ڈیسک) جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکاہے، یہاں تک کہ بے وفا شریک حیات کو پکڑنے کے لئے بھی لوگوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، مگر اس کا نتیجہ بہت صدمہ خیز بھی ہو سکتا ہے۔ 
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بنگلور شہر سے تعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کو گزشتہ سال فروری سے اپنی بیوی کے کردار پر شک تھا مگر کوئی ثبوت نہ مل رہا تھا۔ اسے کئی شواہد نظر آئے مگر بیوی ان باتوں کو بے بنیاد قرار دیتی رہی۔ کچھ ماہ تک اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد بالآخر اس انجینئر نے بیوی کی جاسوسی کا فیصلہ کیا اور گھر کے مختلف حصوں میں کیمرے لگادئیے۔ ان کیمروں اور بیوی کے موبائل فون کو ریموٹ سرور ٹیکنالوجی کے زریعے اپنے لیپ ٹاپ سے منسلک کیا، اور نگرانی کرنے بیٹھ گیا۔
انجینئر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دردناک معاملے کی تفصیل سناتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیوی نے اپنے آشنا کو فون کیا کی اور اسے گھر آنے کو کہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مانع حمل گولیاں لیتا آئے۔ انجینئر نے بتایا کہ کچھ دیر بعد اس کے کیمروں نے بے حیائی کے ایسے منظر دکھائے کہ وہ کانپ اٹھا۔ اس کی بیوی کا آشنا آیا اور انہوں نے پہلے باورچی خانے اور پھر بیڈ روم میں جی بھر کر بے حیائی کی، جبکہ اس دوران خاتون کی تین سالہ بچی بھی گھر میں موجود تھی۔ انجیئیر نے تمام واقعات کے ناقابل تردید ثبوت عدالت میں بھی پیش کردئیے۔ 
بنگلور شہر کی مصالحتی کونسل کے ایک رکن نے بڑھتی ہوئی طلاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے راہ روی اور بدکرداری کی وجہ سے اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیس کئی بار ان کے سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ جوڑے دوبارہ اکٹھے رہنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ طلاق کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔

Saturday, August 20, 2016

اسامہ آپریشن پر کتاب کی کمائی حکومت کو ملے گی

اسامہ آپریشن پر کتاب کی کمائی حکومت کو ملے گی


اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے امریکی نیوی سیل جنھوں نے اس واقعے کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی، امریکی حکومت کو تقریباً سات ملین ڈالر ہرجانے کے طور ادا کریں گے۔
میٹ بسنیٹ نامی اس امریکی فوجی نے سنہ 2012 میں یہ کتاب لکھی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے امریکی محمکہ دفاع پینٹاگون سے پشگی اجازت نہیں لی تھی اور ان پر راز داری کے قانون کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا۔
سابق امریکی سیل اس بات پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ اپنی کتاب سے حاصل ہونے والا تمام منافع وہ حکومت کو دے دیں گے۔ میٹ اس کے ساتھ فلم کے حقوق سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میٹ پر کیے جانے والے دیگر ہرجانے کے کیس ختم کر دے گی۔
خیال رہے کہ سنہ 2011 میں امریکی فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا اور ان کی میت کو سمندر برد کر دیا تھا۔
امریکی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت میں میٹ کی جانب سے داخل کیے گئے بیان میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ کتاب شائع کرنے سے قبل انھوں نے پینٹاگون سے اس کی اجازت نہیں لی تھی۔
میٹ نے اپنے بیان میں معافی بھی مانگی ہے اور کہا ہے کہ انھیں وکیل کی جانب سے غلط مشورہ دیا گیا تھا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی بی ایس کے مطابق سابق سیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی، میں دوسروں سے درخواست کروں گا کہ وہ کبھی ایسا نہ کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اپنے ساتھیوں کی زندگیاں خطر میں ڈالنا میرا مقصد نہیں تھا، اب میں یہ دیکھ سکتا ہوں کہ اس کتاب کی اشاعت سے قبل اجازت نہ لے کر میں نے اپنے ساتھیوں اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کے لیے میں خصوصی طور پر شرمندہ ہوں۔‘

Thursday, August 18, 2016

غلاف کعبہ حج کے دوران زمین سے تین میٹر اونچا کیوں کیا جاتا ہے؟ دلچسپ رپورٹ

غلاف کعبہ حج کے دوران زمین سے تین میٹر اونچا کیوں کیا جاتا ہے؟ 

دلچسپ رپورٹ



ریاض (نیوز ڈیسک) حرمین شریفین کی انتظامیہ نے حسب سابق حج کے ایام کی آمد کے ساتھ ہی غلاف کعبہ کو زمین سے تین میٹر اونچا کر دیا ہے۔ غلاف کعبہ کو زمین سے اٹھائے جانے کا مقصد حج کے ایام میں غلاف کو کسی بھی قسم کے نقصان اور اس کی قطع وبرید سے محفوظ رکھنا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غلاف کعبہ کو تین میٹر اونچا کر دیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں زائرین کعبہ اور نمازی بھی موجود تھے۔ غلاف کعبہ 9 ذی الحج تک زمین سے تین میٹر بلند رہے گا تاکہ اس دوران غلاف کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔خیال رہے کہ ماضی میں حج کے ایام میں عازمین غلاف کعبہ کو چھونے کے ساتھ اس کے ٹکڑے تبرک کے طور پر کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے جس سے بیت اللہ کے غلاف کو نقصان پہنچتا تھا مگر اب سعودی حکومت نے غلاف کعبہ کے تحفظ کے لیے حج کے ایام میں اسے بلند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق غلاف کعبہ کو زمین سے اونچا کرنے کاعمل تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران نمازی اور زائرین کعبہ تسبیح وتہلیل کے ساتھ اللہ رب ذالجلال کی کبریائی بھی بیان کرتے رہے۔ بیت اللہ کے قریب موجود زائرین نے غلاف کو اوپر اٹھانے کے مناظر کو اپنے موبائل کیمروں میں بھی محفوظ کیا۔غلاف کعبہ نو ذی الحج (یوم عرفہ) کی صبح تک اونچا رکھا جائے گا۔ نوذی الحج کو خانہ کعبہ کا نیا غلاف بیت اللہ کی زینت بنایا جائے گا اور پہلے غلاف کو اتار لیا جائے گا۔

Monday, August 15, 2016

قیامت کی خوفناک نشانیاں، جن میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں

قیامت کی خوفناک نشانیاں، جن میں سے اکثر پوری ہو چکی ہی


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیاں تسبیح کے دانوں کی طرح ہیں، جب تسبیح ٹوٹتی ہے تو دانے بکھر جاتے ہیں۔ قیامت کی بڑی نشانیاں کونسی ہیں؟ ان میں دجال کا خروج، دنیا جب سے بنی ہے تب سے قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ نہ تو آیا ہے نہ آئے گا، حضرت عیسیٰؑ کا نزول، یاجوج اور ماجوج، ان کے قبیلے کا کسی کو نہیں علم کہ کہاں ہیں اور ان کو ذولقرنین نے اللہ کی مدد سے کہاں قید کیا تھا، تین ایسے بڑے زلزلے جس میں زمین کے تین مختلف حصے نیست و نابود ہو جائیں گے، ان میں ایک زلزلہ مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جذیرۃالعرب میں آئے گا۔ دھواں جو پوری روئے زمین پر پھیل جائے گا جسے قرآن میں الدخان کہا گیا ہے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یہ سب سے بڑی نشانی ہوگی اور اس کے بعد روایات کے مطابق توبہ کے در بند کر دئیے جائیں گے کیونکہ یہ ایک بالکل واضح نشانی ہوگی۔ الدابۃ پورا نام دابۃ الارض، ایک جانور جو زمین سے نکلے گا اور ہر انسان کی پیشانی پر نشان لگائے گا۔ ایک آگ جو یمن میں لگے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔
یہ نشانیاں کسی ترتیب میں نہیں اور کس ترتیب میں ظاہر ہونگی یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ احادیث میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا پہلی نشانی کے طور پر آیا ہے اور کچھ علمائے دین دجال کے خروج کو پہلی نشانی کہتے ہیں لیکن بہر حال جو چیز روئے زمین میں سب سے پہلی تبدیلی پیدا کرے گی وہ سورج سے مغرب کا طلوع ہونا ہی ہو سکتا ہے۔ پھر دجال ہے جس کے بارے میں کئی احادیث ہیں جن کا مفہوم ہے کہ دجال چالیس روز میں دنیا کا چکر لگائے گا، احادیث کے مطابق ان چالیس دنوں میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر ، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہونگے۔ دجال ایک آنکھ والا ہوگا اور اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جس کو پڑھنے کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں اس کے لئے صرف ایمان ہونا ہی کافی ہوگا اور یہی ایمان پڑھے لکھے یا ان پڑھ یا زبانوں کے اختلاف کو ختم کر دے گا۔ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال دنیا کے ہر مقام تک جائے گا۔ اس کی ایک جنت ہوگی اور ایک جہنم ہوگی جبکہ در حقیقت اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو آنکھیں بند کر کے اس کی آگ میں کود جانا وہاں ٹھنڈا پانی ہوگا (یہ مفہوم ہے)۔ دجال طاقتور ہوگا، ایک انتہائی طاقتور فتنہ وہ  تمام لوگ جن کا ایمان کمزور ہوگا اس کی طرف کھنچے جائیں گے اور اس کے باتوں کو اڈاپٹ کریں گے ان پر عمل کریں لیکن وہ سب جھوٹ ہوگا اور جھوٹ چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ایک نہ ایک دن  کھلتا ضرور ہے۔ دجال، حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ سے قتل ہوگا اور یہ واقعہ فلسطین میں باب لد کے مقام پر پیش آئے گا۔
حضرت عیسیٰؑ فجر کی نماز کے وقت دمشق کی ایک مسجد میں نازل ہونگے، ان کے ہاتھ فرشتوں کے پروں پر ہونگے، نماز کا وقت ہو چکا ہوگا اور مسلمان حضرت مہدی کی امامت میں نماز ادا کرنے کے لئے تیار ہونگے، حضرت مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہیں گے لیکن اللہ نے یہ فخر امتِ محمدی ﷺ کے لئے رکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک امتی کی حیثیت سے حضرت مہدی کی امامت میں عام مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد کے واقعات میں دجال سے جنگ ہے اور اس کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ امتِ مسلمہ کو لیکر طور پر روانہ ہونگے کیونکہ یاجوج ماجوج کا خروج ہو چکا ہوگا اور ان سے مقابلہ آسان نہیں۔ وہ تعداد میں اتنے ہونگے کہ ہر سمت سے حملہ آور ہونگے، زمین کا سارا پانی پی جائیں گے لوگ ان سے بھاگیں گے اور پھر جب وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا تو تیر آسمان کی طرف کر کے چلائیں گے جو جب واپس آئیں گے تو خون آلود ہونگے اور یاجوج ماجوج خیال کریں گے کہ انہوں نے آسمانوں پر بھی سب ختم کر دیا۔ پھر وہ مسلمانوں کا محاصرہ کریں گے اور وہ محاصرہ بہت سخت ہوگا، حضرت عیسیٰ اور مسلمان اللہ سے دعا کریں گے اور اللہ دعا قبول فرما کر یاجوج اور ماجوج پر عذاب بھیجیں گے جو کہ کیڑوں کی شکل میں ان کے جسموں میں داخل ہوگا اور ان کو مار دے گا۔حضرت عیسیٰ اور مسلمان باہر آئیں گے لیکن روئے زمین پر کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی جہاں ہاجوج و ماجوج کی لاشیں موجود نہ ہوں، وہ تعداد میں اتنے ہونگے کہ ساری زمین ان کی لاشوں سے پُر ہوگی۔حضرت عیسیٰ دوبارہ دعا فرمائیں گے اور اس بار اللہ تعالیٰ بارش بھیج کر پوری زمین کو صاف فرما دیں گے۔
اس کے بعد حضرت عیسیٰ صلیب کو توڑ کر ختم کر دیں گے اور اس طرح وہ شرک جو حضرت عیسیٰ کے نام پر ہوتا رہا ختم ہو جائے گا، اس کے بعد خنزیر کا خاتمہ ہوگا اور پھر حضرت عیسیٰ جزیہ بھی ختم کریں گے، یہ وہ وقت ہوگا جب ایک بار پھر سے زمین پر عدل قائم ہو رہا ہوگا۔جزیہ کا خاتمہ ایک طرح سے اسلامی لشکر کشی کی ان تین شرائط میں سے ایک کی کمی کی طرف بھی اشارہ ہے جو ابھی یہ ہیں:۔ نمبر ایک، اسلام قبول کر لو تو ہمارے بھائی ہو، نمبر دو، جزیہ دے دو تو لشکر کشی نہیں کی جائے گی، نمبر تین، پہلی دو شرائط قبول نہیں تو ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔ حضرت عیسیٰ ان میں سے جزیہ والی شرط ختم کر دیں گے اور مشرکین کے پاس صرف دو ہی راستے ہونگے، یا اسلام یا جنگ۔ حضرت عیسیٰ اسلام کو وہ آخری فتح دیں گے اور اس کے بعد روئے زمین پر امن پھیل جائے گا۔اسی دور میں اسلام کے علاوہ تمام دیگر مذاہب کا خاتمہ کر دیا جائے گا، صرف اسلام باقی رہے گا۔مسلم کی دو احادیث ہیں، ایک میں ہے کہ حضرت عیسیٰ زمین پر چالیس برس رہیں گے اور ایک میں ہے کہ سات برس تک زمین پر رہیں گے۔ علماء کرام کہتے ہیں کہ چالیس برس حضرت عیسیٰ کی زمین پر مکمل زندگی کا وقت ہے جس میں سے 33 برس وہ گزار چکے ہیں اور باقی سات برس قیامت سے قبل گزاریں گے۔اس کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔
اس کے بعد شام (ملک) سے ایک ایسی ہوا چلے گی جو ہر ایمان والے کی جان نکالتی جائے گی۔ کسی کے دل میں ایک ذرہ بھی ایمان کا ہوا تو اس کی موت ہو جائے گی۔اس کے بعد مشرکین اور کافرین باقی ہونگے اور قیامت انہی پر قائم ہوگی۔ قیامت کی چوتھی، پانویں اور چھٹی نشانیاں ہیں تین بڑے زلزلے جو زمین کے تین مختلف حصوں میں آئیں گے۔ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزرۃ العرب میں اور ان کی شدت ایسی ہوگی کہ زمین کا وہ حصہ بالکل مٹ جائے گا۔یوں سمجھیں کہ ایسا زلزلہ ہوگا کہ مغربی امریکہ صفحہ ہستی سے بالکل مٹ جائے۔ ساتویں نشانی، دھواں، الدخان، قرآن میں ہے آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا، جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے۔ ماننے والوں کے لئے یہ ایک نشانی ہوگی اور نہ ماننے والوں کے لئے دردناک عذاب۔ آٹھویں نشانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یہ ایک بہت لمبی رات ہوگی، متقی و پرہیز گار رات کو تہجد کے لئے جاگیں گے، نوافل ادا کریں گے اور سو جائیں گے، پھر جاگیں گے پھر نفل پرھیں گے اور پھر سو جائیں گے لیکن دن طلوع نہیں ہوگا، پھر سے سو کر اٹھیں گے، نفل پڑھیں گے اور سوچیں گے کہ فجر کا وقت ہونے والا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں ہوگا تب وہ سمجھیں گے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ پھر سورج طلوع ہوگا لیکن سب کچھ تبدیل ہوگا کیونکہ مشرق کی بجائے مغرب سے نکلے گا، توبہ کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے، ایک واضح نشانی پوری آب و تاب سے چمک رہی ہوگی، لوگ توبہ کرنا چاہیں گے لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ 
نویں نشانی، الدابۃ، یہ ایک جانور ہوگا جو مومن اور کافرین کو الگ الگ نشانی لگائے گا، لوگوں سے بات کرے گا، اس کے ایک ہاتھ میں حضرت موسیٰ کا عصا ہوگا اور ایک ہاتھ میں حضرت سلیمان کی مہر۔ حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک مومن کے چہرے پر نشان لگائے گا اور حضرت سلیمان کی مہر سے ایک کافر کے چہرے پر۔ اھادیث میں ہے کہ لوگ ساتھ کھائیں گے اور ایکدوسرے کو یا مومن یا کافر کہہ کر بلائیں گے۔دسویں نشانی، ایک زبردست آگ جو یمن سے لگے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی، لوگ آگے ہونگے اور آگ پیچھے جو پیچھے رہ جائے گا وہ جل جائے گا۔ یمن میں کئی آتش فشاؤں کے دہانے موجود ہیں، قیاس یہی ہے کہ یہ آگ یہیں سے نکلے گی۔ میدان حشر کے بارے میں اختلاف ہے، عرفات کے میدان کو بھی کہا جاتا ہے جبکہ شام، اردن، لبنان اور فلسطین کے مقامات کی طرف بھی اشارہ ہے، یہیں بیت المقدس بھی ہے اور کئی احادیث میں آپ ﷺ نے اس مقام کی یعنی بیت المقدس اور فلسطین کی تعریف فرمائی ہے، مسلمانانَ عالم یہیں پر مسلسل مصروفِ جہاد ہیں، تمام بڑی جنگیں یہی پر ہوئی ہیں اور یہ دنیا کا واحد حصہ ہے جہاں روزِ اول سے جہاد جاری ہے اور یہیں دجال اور یہودیوں کا خاتمہ بھی ہوگا۔ واللہ اعلم بالثواب

Saturday, August 13, 2016

یوم اآزادی پاکستان


یوم اآزادی پاکستان


یوم آزادی پاکستان یا یوم استقلال ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں آزادی کے دن کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان1947ء میں انگلستان سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکار ی سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ملک بھر کی اہم سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے۔اسلام آباد جو کہ پاکستان ک ادارالحکومت ہے، اس کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے، اسکے مناظر کسی جشن کا سماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیرآعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ان تقاریب کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، بعید نُما اور جالبین پہ براہ راست صدر اور وزیراعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لیجانا ہے۔
سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلی عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگاکر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما 
قائداعظم محمد علی جناح کے قول "ایمان، اتحاد اور تنظیم" کی پاسداری کریں گے۔

تقاریب

14 اگست کو پاکستان میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ونیم سرکاری عمارات میں چراغاں ہوتا ہے اور سبز ہلالی پرچم لہرایاجاتا ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے او ر ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ پاکستان کی تمام شہروں میں ناظم قومی پرچم بلند کرتے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں نجی اداروں کے سربراہان پرچم کشائی کی تقاریب میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رنگارنگ تقاریب، تقاریر اور مذاکروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا جوش و خروش توقابل دید ہوتا ہے جہاں مختلف تقاریب کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں سیروتفریح سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں ، ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیر راہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں مقبرہء قائداعظم پر سرکاری طور پر گارڈ کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے ۔ اسی طرح واہگہ باڈر پر بھی ثقافتی تقاریب میں احترامی محافظوں کی تبدیلی کا عمل وقوع پزیر ہوتا ہے جبکہ غلطی سے واہگہ سرحد پار کرنے والے قیدیوں کی دوطرفہ رہائی بھی ہوتی ہے۔